جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 25
25 مختصر سوانح مهدی دوراں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا نام حضرت مرزا غلام احمد صاحب تھا۔آپ کے والد صاحب کا نام مرزا غلام مرتضی صاحب ، دادا کا نام حضرت مرزا عطا محمد صاحب۔اور پڑدادا کا نام مرزا گل محمد صاحب تھا۔آپ کی والدہ کا نام حضرت چراغ بی بی صاحبہ تھا۔آپ ایک نہایت معزز مغل خاندان کی برلاس شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔اس خاندان کا امتیازی لقب مرزا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس خاندان کے تمام افراد کے ناموں سے پہلے مرزا کا لفظ لکھا جاتا ہے۔اس خاندان کے ایک بزرگ مرزا ہادی بیگ صاحب سولہویں صدی عیسوی کے آخر میں بابر بادشاہ کے عہد حکومت میں اپنے وطن خراسان کو چھوڑ کر قریباً دو سو آدمیوں سمیت ہندوستان آگئے اور دریائے بیاس کے قریب آباد ہو گئے۔یہاں پر انہوں نے ایک گاؤں کی بنیاد رکھی جس کا نام اسلام پورہ رکھا۔یہ گاؤں بعد میں اسلام پور قاضی ما جبھی کے نام سے مشہور ہوا۔رفتہ رفتہ لوگ صرف قاضی ما جبھی کہنے لگے۔پھر ماجھی کا لفظ بھی اڑ گیا اور قاضی رہ گیا۔آہستہ آہستہ قاضی سے قادی اور پھر قادی سے قادیان ہو گیا۔قادیان لاہور سے شمال مشرق کی طرف قریبا ستر میل کے فاصلہ پر ہندوستان کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں واقع ہے یہی وہ مقدس بستی ہے جہاں پر جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام ۱۳ / فروری ۱۸۳۵ء کو پیدا ہوئے۔جب آپ کی عمر چھ سات سال کی ہوئی تو ایک استاد آپ کو پڑھانے کے لئے مقرر کیا گیا جس سے آپ نے قرآن کریم اور اس زمانہ کے رواج کے مطابق فارسی کی چند کتابیں پڑھیں۔بعد میں دو اور اساتذہ سے آپ فارسی اور عربی پڑھتے رہے۔طب کی بعض کتب آپ نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں جو کہ بہت بڑے حکیم بھی تھے اس تعلیم کے نتیجہ میں آپ کو عربی اور فارسی کا کچھ ابتدائی علم حاصل ہو گیا اس سے زیادہ آپ نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔تعلیم با قاعدہ طور پر آپ نے کسی استاد سے بھی حاصل نہیں کی البتہ اپنے طور پر دینی کتابیں پڑھتے رہتے تھے اور قرآن مجید کا مطالعہ کرنے اور اس پر غور کا تو آپ کو شروع سے ہی بہت شوق تھا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا بچپن بہت ہی سادہ اور پاکیزہ تھا۔آپ کی سادہ، پاکیزہ اور نیک عادتوں کا دیکھنے والوں پر گہرا اثر ہوتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ جبکہ آپ ابھی بچہ ہی تھے ایک بزرگ مولوی غلام رسول صاحب نے جو کہ خود بھی ولی اللہ تھے آپ کے سر پر محبت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ:۔اگر اس زمانہ میں کوئی نبی ہوتا تو یہ لڑ کا نبوت کے قابل ہے۔( بحوالہ حیات طیبہ ص ۱۴)