جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 597 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 597

597 اس پر ان کے نگران نے کہا کہ تم مجھے یہ تصدیق نامہ لکھ کر دے دو کہ تم نے میرے ساتھ کام کیا ہے۔“ (ص ۴۷) سبحان اللہ استاد اپنے شاگرد پر کس قدر نازاں اور اس کی نگاہ میں شاگرد کا کیا مقام و مرتبہ تھا۔وطن واپسی کے بعد ۱۹۵۱ء میں پروفیسر عبد السلام کا تقرر اول گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یو نیورسٹی میں براہ راست شعبۂ ریاضی کی حیثیت سے ہوا۔لیکن ۱۹۵۳ء کے فسادات نے ڈاکٹر عبدالسلام کو عجیب ذہنی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ڈاکٹر عبدالغنی ان فسادات کے بارہ میں لکھتے ہیں :۔ان مذہبی فسادات کا ذمہ دار ایک سیاستدان تھا جو وزارت خارجہ کی کرسی سے اس وقت کے وزیر خارجہ کو جو احمدی تھے (سرظفر اللہ ) ہٹانا چاہتا تھا۔اس کی اس کوشش کے نتیجے میں پنجاب میں احمدیوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی تھی اور آئے دن فسادات ہونے لگے تھے۔اس صورت حال نے سلام کو اور بھی تکلیف پہنچائی اور ان کے ذہن کو پراگندگی کا شکار بنا دیا۔انہوں نے دیکھا کہ سیاستدان اور متعصب علماء کی انگیخت پر مسلمان مسلمانوں کے گھر جلا رہے تھے انہیں خاک و خون میں نہلا رہے تھے۔اور ان کی مکمل بیخ کنی کے لئے پاگل ہوئے جارہے تھے۔“ (ص۵۴) قدرت کے کارخانے عجیب ہیں۔انہی دنوں پروفیسر عبدالسلام کو کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے لیکچر شپ کی پیشکش ملی۔اور وہ جنوری ۱۹۵۴ء میں برطانیہ روانہ ہو گئے۔بقول ڈاکٹر عبدالغنی عبدالسلام برصغیر ہندو پاک بلکہ اسلامی دنیا کے پہلے سائنس دان تھے جنہیں کیمبرج یونیورسٹی میں لیکچرار کے عہدے کی پیشکش کی گئی تھی۔‘ (ص۵۹) ڈاکٹر عبدالسلام کو سب سے زیادہ دلچپسی ریسرچ سے تھی۔انہیں کیمبرج میں اس شوق کے لئے سازگار ما حول مل گیا۔اب انہوں نے اعلی تحقیقاتی مضامین شائع کرنے شروع کر دیئے۔کیمبرج میں قیام کے دوران انہوں نے اتنا ٹھوس تحقیقی وتحریری کام کیا کہ بقول ڈاکٹر عبدالغنی : ۱۹۵۶ء تک سلام دنیا کے چوٹی کے ماہر طبیعات کی حیثیت سے شہرت حاصل کر چکے تھے، (ص ۶۴) اب اللہ تعالیٰ نے پروفیسر عبدالسلام کو ایک اور کامیابی سے نوازا۔وہ یہ ہے کہ کیمبرج کی لیکچر شپ ملنے کے تین سال بعد ۱۹۵۷ء میں اکتیس سال کی عمر میں پروفیسر عبدالسلام امپرئیل کا لج (لندن) کے فل پروفیسر بن گئے۔امپیرئیل کالج میں سلام نے نظریات کی لگاتار برسات سے اس ادارے میں ایک نئی روح پھونکنی شروع کر دی۔ان کے بے پناہ کارکردگیوں اور متاثر کن شخصیت کی بدولت امپیرئیل کالج برطانیہ اور یورپ میں ہائی انرجی تھیوریٹیکل فزکس کے لئے کام کرنے کا ایک خاص اور اہم مرکز بن گیا۔اور امریکہ سمیت دنیا کے تمام حصوں سے متعدد ذہین ماہرین طبیعات اس جگہ کی طرف کھینچے چلے آنے لگے۔(ص۷۰)