جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 598
598 صدر پاکستان کی قدردانی امپیرئیل کالج لندن جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ تعلیمی اور سائنسی ادارے میں پروفیسر کے طور پر تقرر سے ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنی عظمت اور قابلیت کا لوہا اپنوں اور بیگانوں سب سے منوالیا تھا چنانچہ ۱۹۵۹ء میں حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عبدالسلام کو ایجوکیشن کمیشن“ کا مشیر اور پاکستان ”سائنٹیفک کمیشن“ کا ممبر مقرر کیا۔گویا ۱۹۵۹ء میں ڈاکٹر سلام کی اپنے وطن میں صحیح طور پر پذایرائی شروع ہوئی اور ان کی آواز اور بات کا وزن محسوس کیا جانے لگا۔ان کو ملک کی سائنسی تعلیم و ترقی اور منصوبوں میں عمل دخل حاصل ہو گیا آئیے یہاں ذرا سا ان کی ملکی خدمات کا جائزہ لیں۔الف۔سائنسدانوں کی تربیت اور اعلیٰ تعلیم وو ڈاکٹر عبدالغنی کا کہنا ہے کہ پروفیسر سلام نے پاکستان میں جس کام کو اولیت دی وہ سائنس دانوں کی تربیت تھی۔وہ اس وقت کی وزارت تعلیم کے فیڈرل سیکرٹری الیں۔ایم شریف کو اس امر پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے۔کہ طبیعات میں پوسٹ گریجویٹ سٹڈیز کے لئے چھ سالہ وظائف دینے کے لئے فنڈز قائم کئے جائیں۔اس سکیم پر تین سال تک عمل درآمد ہوتا رہا۔اور اس کی بدولت۔۔۔۔۔۔۔ہونہار طالب علموں نے برطانیہ سے پی۔ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔“ (ص۱۰۶) ب۔میزائل ریسرچ ”میزائیل ریسرچ اور اس سے ملحقہ میدانوں میں ترقی کے لئے سلام نے خلاء اور بالائی فضا کی تحقیقی کمیٹی ”سیار کو“ کی بنیا درکھی۔اور کچھ عرصہ تک اس کے چیئر مین بھی رہے۔‘‘(ص ۱۰۸) ج۔سوشل سائینسز کا میدان پروفیسر سلام پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو کتنا فروغ دینا چاہتے تھے۔اور اپنے ملک کی معاشرتی اور معاشی مسائل کے حل کے لئے اپنے دل میں کیا جذبہ اور کیا تڑپ پاتے تھے اس کی عکاسی ان کے اس خطبے سے ہوتی ہے جو انہوں نے جنوری ۶۱ء میں ڈھاکہ کی انجمن ترقی سائنس پاکستان“ کے موقع پر دیا تھا ان کی تقریر کا موضوع تھا۔ٹیکنالوجی اور پاکستان کی غربت کے خلاف جنگ“ یادر ہے۔پروفیسر عبدالسلام نے یہ تقریر ۱۹۶ء میں ۳۵ سال کی عمر میں کی تھی۔اسی سال وہ صدر پاکستان ( محمد ایوب خان) کے سائنسی مشیر مقرر ہوئے ۱۹۶۲ء میں انہیں سیکسوئل میڈل دیا گیا۔جو برطانیہ کی سب سے بڑی سوسائٹی فزیکل سوسائٹی“ کا انعام تھا۔