جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 594 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 594

594 از کم پچاس کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔بھارتی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے پاکستانی سکے کے ایک سو اور پانچ سو کے مشرقی پاکستان سے لوٹے ہوئے نوٹ اپنے مداخلت کاروں سے خریدے تھے لیکن بھارت کی یہ سازش خود اس کے لئے زبردست مالی نقصان کا باعث بن گئی۔اور پاکستانی بڑے نوٹوں کی منسوخی سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان دشمن اندرا حکومت کو اٹھانا پڑا۔“ کالا روپیہ اور اب ” نوائے وقت“ کا ۱۸ جون ۱۹۷۱ء کا اداریہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔زیر عنوان ” منسوخ نوٹ اور لکھا ہے:۔پانچ سو اور ایک سوروپے کی مالیت کے نوٹوں کی تنسیخ کا بنیادی مقصد ملک و قوم کو مشرقی پاکستان کے بنکوں سے لوٹی اس کرنسی کے منفی اثرات سے محفوظ کرنا تھا جو نام نہاد بنگلہ دیس کے پجاریوں نے مغربی بنگال پہنچا دی تھی۔اور جو مغربی بنگال سے افغانستان اور خلیج فارس کی مملکتوں کے راستے دوبارہ پاکستان سمگل ہونے لگی تھی۔یہ مقصد کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے اعلان کے ساتھ ہی حاصل ہو گیا تھا۔اس اقدام کا ملکی معیشت پر بھی خوشگوار اثر پڑا۔اس اقدام سے افراط زر کو روکنے میں مددملی ہے اور ہم ایک بار پھر کرنسی کی قیمت کم کرنے کے جاں گسل مرحلہ سے بچ گئے ہیں۔“ ایم ایم احمد کا پیش کردہ مثالی مرکزی بجٹ ۱۹۷۱ء۔۱۹۷۲ء:۔یہ بیان کیا چکا ہے کہ ۱۹۷۱ء میں ملک کسی کٹھن اور پُر آشوب دور سے گزر رہا تھا۔ملکی معیشت پر اندرونی و بیرونی دباؤ اور بوجھ نا قابل برداشت اور نا قابل بیان حد تک بڑھ رہا تھا۔مشرقی پاکستان میں انتہائی دگرگوں حالت کے ساتھ ساتھ فوجی اخراجات کی زیادتی اور اپنوں اور بیگانوں کی یلغار نے ملک کو سخت پریشان حال کیا ہوا تھا۔ان حالات کے باعث عوام و خواص کے اذہان پر ایک اچھا خاصا خوف طاری تھا۔کہ نیا مرکزی بجٹ ۱۹۷۱ء۔۱۹۷۲ء بھاری عوامی ٹیکس لے کر آئے گا۔اور روزہ مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمت بہت چڑھ جائیں گی۔لیکن ۲۶ جون ۱۹۷۱ ء کی سہ پہر قوم کے لئے دوہری خوشگوار حیرت لے کر آئی۔پہلی یہ کہ صدر پاکستان کے اقتصادی مشیر جناب ایم ایم احمد نے اپنی بجٹ تقریر ( جو ریڈیو پاکستان سے بھی نشر ہوئی ) کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کیا ( جس کا ہمارے یہاں قطعا رواج نہیں تھا ) ( اور دوسری یہ کہ ایم ایم احمد کا تیار کردہ بجٹ ہمارے ملک کے روایتی کمر توڑ بجٹوں کی بجائے ایک سکون بخش اور خوشکن بجٹ تھا۔۲۷/ جون ۱۹۷۱ء کے ملکی اخبارات میں اس بجٹ کی تفاصیل اور اس پر ان کا اظہار خیال شائع ہوا۔(الف) ''پاکستان ٹائمز (لاہور) کی شہ سرخی تھی ” خود اعتمادی اور کفایت شعاری کا بجٹ۔پاکستان