جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 592 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 592

592 ے۔مکرم الحاج سر محمد سنگھاٹے صاحب الحاج سر محمد سنگھاٹے صاحب اولین سربراہ مملکت ہیں جو سید نا حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مشہور پیشگوئی بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے“ کے ظاہری معنوں میں سب سے پہلے مظہر بنے۔بحیثیت گورنر جنرل گیمبیا آپ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس پیشگوئی کا حوالہ دے کر آپ نے حضرت امام جماعت احمدیہ ( الثالث) سے یہ درخواست کی کہ مجھے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا کوئی کپڑے تبرک حاصل کرنے کی غرض سے ارسال فرمایا جائے چنانچہ حضور نے اس درخواست کو قبول فرماتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی قمیض میں سے ایک کپڑے کا ٹکڑا ان کو تبر کا ارسال فرمایا :۔الحاج محمد سنگھاٹے کو دو مرتبہ حضرت امام جماعت احمدیہ ( الثالث ) سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔پہلی مرتبہ جب حضور یورپ کے دورہ پر تشریف لے گئے تو آپ کی ملاقات انگلستان میں ہوئی دوسری مرتبہ جب حضور افریقہ کے ممالک کے دورہ پر تشریف لے گئے تو الحاج محمد سنگھاٹے محبت اور اخلاص کے جذبے سے سرشار ہوکر حضور کے ساتھ ساتھ رہے۔آپ کی وفات ۷ ارمئی ۱۹۷۷ء کو ہوئی۔آپ ایک رات کی مختصر علالت ہی میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب (ایم۔ایم۔احمد ) آپ حضرت مسیح موعود کے پوتے ، حضرت صاحبزادہ مرز بشیر احمد صاحب ایم۔اے کے بیٹے اور حضرت مصلح موعودؓ کے داماد تھے۔آپ عالمی شہرت رکھنے والے ماہر اقتصادیات تھے۔آپ نے متحدہ ہندستان میں آئی سی ایس کے تحت اپنی ملازمت کا آغاز سول سروس کے ایک افسر کی حیثیت سے کیا۔قیام پاکستان کے وقت آپ ڈپٹی کمشنر کے عہدہ پر فائز تھے۔ایوب خان کی صدارت کے ابتدائی سالوں میں ایم ایم۔احمد مغربی پاکستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری تھے۔چونکہ صدر ایوب تعمیر و ترقی وطن کیلئے جو ہر قابل کی تلاش میں رہتے تھے اور ان کی اس جستجو تک تنگ نظری اور مذہبی تعصب کی رسائی نہ تھی۔اس لئے ایم۔ایم۔احمد کی خدمات مرکزی حکومت کو سونپ دی گئیں۔وہ وزارت خزانہ کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔آپ معاشیات و مالیات کے امور میں اتنے کامیاب ثابت ہوئے کہ صدر ایوب خاں نے انہیں منصوبہ بندی کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین مقرر کر دیا۔( چیئر مین خود صدر ہوا کرتے تھے )۔