جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 591 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 591

591 جماعت احمد یہ ضلع گجرات منتخب ہوئے۔جماعتی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ کو ہمیشہ مثالی رنگ میں علمی وادبی ، ملکی و ملی اور سماجی و فلاحی خدمات کی توفیق ملتی رہی۔آپ فی الواقع ایک مثالی داعی الی اللہ تھے۔ایک کامیاب مناظر کی حیثیت سے آپ نے سرزمین پنجاب کے گوشے گوشے میں نہایت شاندار مناظرے کئے۔۱۹۵۳ء کے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت میں جماعت احمدیہ کے ایک وکیل کی حیثیت سے نہایت گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔آپ کی غیر معمولی قابلیت خصوصاً کتب قدیم کی تلاش و تجسس کے حوالہ سے فاضل جج صاحبان نے بر ملا تعریف کرتے ہوئے آپ کا شکریہ ادا کیا۔ہفتہ وار لا ہور نے ایک متعصب مخالف احمدیت کا بھری بزم میں یہ اعتراف درج کیا ہے کہ :۔66 ”اسلام پر اعتراض کا جواب دے کر خادم کا چہرہ یوں کھل اٹھتا ہے جیسے گلاب کا پھول۔“ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات پر آپ کی مثال دیتے ہوئے اپنے تحریری نوٹ میں فرمایا:۔پس اے وکیلو اور اے ڈاکٹر و اوراے تاجر و اور صناعو اور اے زمیندار و اور اے دوسرے پیشہ ورو! تم پر خادم مرحوم کی زندگی یقیناً ایک حجت ہے کہ تم دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہوئے بھی دین کا علم حاصل کر سکتے ہو اور دین کی خدمت میں زندگی گزار سکتے ہو؟“ سینتالیس سال کی مختصر عمر (۱۹۱۰ء تا ۱۹۵۸ء) میں آپ نے بلاشبہ حیرت انگیز اور معیاری خدمات جلیلہ کی توفیق پائی۔مکمل تبلیغی پاکٹ بک آپ کا زندہ جاوید تاریخی کا رنامہ ہے۔صرف سترہ اٹھارہ برس کی عمر سے ہی آپ نے پاکٹ بک ترتیب دینا شروع کی جو وقفہ وقفہ سے مفید اضافوں کے ساتھ چھپتی رہی۔آخری ایڈیشن چھوٹی تقطیع کے بارہ سو صفحات پر مصنف کی اجازت سے محترم منشی محمد رمضان صادق مرحوم پوسٹل پنشنر گجرات نے شائع کیا۔یہ مذہبی انسائیکلو پیڈیا ادیان عالم کے میدان کارزار میں یقینا ایک مؤثر و مجرب کارگر ہتھیار ہے۔محترم خادم صاحب نے ۳۱ دسمبر ۱۹۵۷ء کو حرکت قلب بند ہونے سے لاہور میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص میں مدفون ہوئے۔ع اے خدا بر تبت او ابر رحمت ہا بیار (استفاه از پاکٹ بک ملک عبدالرحمن خادم صاحب)