جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 565
565 بعض ابتدائی مبلغین واعظین سلسلہ کا تقرر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں انجمن کی طرف سے با قاعدہ کوئی واعظ تبلیغ - کے لئے مقرر نہ تھے مگر خلافت اولیٰ کے شروع میں ہی اس کی پوری شدت سے ضرورت محسوس ہوئی اور خود حضرت خلیفہ اسیح الاول کی طرف سے اس کی تحریک ہوئی۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے انجمن نے سب سے پہلے شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم کو اور بعد ازاں مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی، حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی اور حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو واعظ مقرر کیا ان کے بعد بعض اور واعظ مثلاً الہ دین صاحب فلاسفر بھی نامزد ہوئے۔واعظ اول شیخ غلام احمد صاحب کے تقر رکا واقعہ ذرا تفصیل سے ذکر کرنا موجب دلچسپی ہو گا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے صدر انجمن احمد یہ میں درخواست بھیجی کہان کو واعظ مقرر کیا جائے صدرانجمن نے اپنے اجلاس منعقدہ ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء میں فیصلہ کیا کہ چونکہ تقر رواعظین حضرت خلیفہ اسیح کے ہاتھ میں ہے اس لئے شیخ یعقوب علی صاحب کو لکھا جائے کہ وہ تحریری درخواست حضرت امام کی خدمت میں بھیج دیں۔حضرت خلیفہ امسیح نے اس کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ بڑے شہروں کی نسبت زیادہ تر چھوٹے چھوٹے دیہات میں جانا چاہئے۔اور تھوڑا تھوڑا دو دو تین تین میل کا سفر روز کریں اور اسباب اٹھوانے کے لئے ان کے پاس آدمی ہو۔گاؤں کے لوگ مدد کر سکتے ہیں یا ٹو کر لیا کریں۔مطلب یہ ہے کہ گاؤں کے لوگوں کو اللہ اکبر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آواز پہنچ جائے اور موسم سرما کے ابتداء تک اس طرح آپ ایک ضلع کو ختم کر سکتے ہیں۔( بدر ۳۰ / جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ) سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب یکم اگست ۱۹۰۸ء سے تبلیغ کے لئے روانہ ہوئے تھے اور اس پہلے دورہ میں امرتسر سے حیدر آباد تک جانے کا پروگرام تھا ان کے گھر کے اخراجات حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے برداشت کئے اور سفر خرچ انجمن کی طرف سے ملا۔شیخ صاحب کے بعد مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی کا تقر عمل میں آیا۔آپ پنجابی زبان کے مشہور شاعر بھی تھے۔ان کو ابتداء جموں، پونچھ ، وزیر آباد، گوجرانوالہ وغیرہ کے شہروں اور دیہات میں بھجوایا گیا ان ابتدائی واعظین کے فرائض میں چندہ کی فراہمی اور نئی انجمنوں کا قیام بھی ہوتا تھا۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بھی عہد خلافت کے اولین واعظوں میں سے تھے۔آپ پنجابی زبان کے بڑے عمدہ واعظ تھے اور