جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 545 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 545

545 آپ کا درس قرآن کریم اور وعظ بینظیر ہوتا تھا۔سفر میں آپ بہت نرم اور با اخلاق رہتے۔آپ کے ہمراہی آپ سے خوش رہتے اور آپ باوجود معذور ہونے کے نہایت چوکس رہ کر سفر کرتے۔ریل کے ٹائم ٹیبل اور بہت سے ریلوے قواعد سے آپ واقف تھے۔آپ انگریزی قطعاً نہ پڑھے ہوئے تھے مگر گفتگو میں جو لفظ انگریزی استعمال کرتے۔وہ ٹھیک طور پر کرتے۔انگریزی خوانوں کا مضحکہ نہ بنتے۔سنا ہے کہ ولایت میں آپ انگریزی کے ایک دولفظ اور دو تین ہاتھ کے اشاروں کی امداد سے بعض انگریزوں سے مذہبی گفتگو کر لیتے تھے اور یہ نہایت ہی ذہانت کی دلیل ہے۔آپ نہایت حاضر جواب تھے۔آپ کی مجلس میں کوئی رنجیدہ نہ رہ سکتا تھا۔آپ کسی مذاق کے لوگوں کی مجلس میں بھی کبھی بارگراں نہیں ہوئے۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر دس بارہ سال تک آپ کا مضمون صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام رکھا جاتا۔مگر ہر دفعہ نئے انداز اور نئے معیاروں سے آپ نے اس مضمون کو بیان کر کے سامعین کو بے حد محظوظ کیا۔ہمیشہ آپ کا وقت ایک باقاعدہ ٹائم ٹیبل کے ماتحت صرف ہوتا تھا۔کبھی آپ نے فضول وقت ضائع نہیں کیا۔آپ نہایت محنتی تھے۔باوجود بدن کے فربہ ہونے کے سفروں میں نہایت جفاکش تھے۔آپ نہایت عابد تھے۔اپنے شاگردوں سے بہت بے تکلف اور نہایت محبت وشفقت سے پیش آتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے قریباً ہر سفر میں آپ بطور عالم ہمراہ جایا کرتے تھے۔نظارتوں کے قائم ہونے سے قبل سے لے کر آپ صدر انجمن احمد یہ کے آخر تک مجلس شوری کے ممبر تھے۔آپ عربی میں فی البدیہ نہایت فصیح و بلیغ تقریر کر سکتے تھے۔فارسی میں بخوبی گفتگو فرماتے تھے۔تصوف سے خاص مذاق تھا۔آپ نے مورخہ ۲۳ جون ۱۹۲۹ء کو ۴۸ سال کی عمر میں وفات پائی۔روزنامه الفضل مورخہ ۲۸ جون ۱۹۲۹ء ص ۷۔۸) ۲۔حضرت علامہ مولوی سید سرور شاہ صاحب حضرت مولوی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد میں۔تھے۔آپ کے والد ماجد کا نام سید محمد محسن صاحب تھا۔آپ کے پڑدادا سید زین العابدین صاحب تھے۔جو ضلع ہزارہ میں مدفون ہیں۔سید زین العابدین صاحب کے بھائی شاہ محمد غوث صاحب ایک مشہور بزرگ تھے۔ان کا مزار لاہور میں دہلی گیٹ کے باہر ہے۔حضرت مولوی صاحب تیرہ سال کی عمر میں ہی تحصیل علم کی خاطر اپنے وطن ہزارہ سے عازم سفر ہو گئے۔