جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 546 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 546

546 صرف ونحو کا علم آپ نے یکے بعد دیگرے تین اساتذہ سے حاصل کیا۔ان تینوں کا نام عبدالکریم تھا۔علوم منطق و فلسفه مولوی غلام احمد صاحب اول مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور سے پڑھا۔مفتی سلیم اللہ صاحب لاہوری سے طب پڑھی۔اس کے بعد آپ دیو بند تشریف لے گئے۔اور وہاں علوم حدیث کی تعلیم حاصل کی۔تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد آپ کچھ عرصہ سہارن پور میں مدرسہ مظاہر العلوم میں مدرس رہے۔پھر آپ پشاور مشن کالج میں عربی کے پروفیسر متعین ہوئے۔آپ پشاور میں ہی تھے جب کہ آپ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر ملازمت ترک کر دی۔اور قادیان رہائش اختیار کر لی۔قادیان میں حضور علیہ السلام کی مقدس صحبت میں رہ کر حقیقی علم سے یہاں تک استفادہ کیا کہ آپ مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہو گئے۔آپ نے قریباً اسی برس عمر پائی۔آپ کو حضرت مصلح موعودؓ کے استاد ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔حضرت مولوی صاحب اپنے علم اپنے زہد و اتقاء، اپنے عشق و محبت سلسلہ احمدیہ اور اپنی قربانیوں کے لحاظ سے ایک بے مثال وجود تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا۔اور دنیا و آخرت میں خاص فضلوں کا وارث بنایا۔آپ سے علم دین سیکھنے والوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے اور یہ فیض عمیم حضرت مولوی صاحب مرحوم کے درجات کو ہمیشہ بلند کرتا رہے گا۔۱۹۰۲ء میں جب حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کو معہ چند ساتھیوں کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے موضع مدضلع امرتسر میں ایک مباحثہ کے لئے بھیجا اور پھر اسی مباحثہ کے حالات کی بناء پر حضور نے تائید ایزدی رساله اعجاز احمدی انعامی دس ہزار روپیہ شائع فرمایا۔اس رسالہ میں حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔فانزل من رب السماء سكينة على صحبتي والله قد كان ينصر واعطاهم الرحمن من قُوَّةِ الوغى وايديهم روح امين فابشروا فكان ثناء الله مقبول قومه و مناتَصَدَّى لِلتَّخَاصِمٍ سَروَر كان مقام البحث كان كاجمة به الذئب يعوى والغضنفريذء ود۔ترجمہ: پس میرے اصحاب پر آسمان سے تسلی نازل کی گئی۔اور خدامد د کر رہا تھا اور خدا نے ان کو قوت لڑائی کی دے دی اور روح القدس نے ان کو مدد دی۔پس وہ خوش ہوئے۔اور ثناء اللہ اپنی قوم کی طرف سے مقبول تھا۔اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ پیش ہو گئے۔گو یا مقام بحث ایک ایسے بن کی طرح تھا جس میں ایک طرف بھیڑ یا چیختا تھا اور ایک طرف شیر غراتا تھا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ پاکیزہ کلمات ہمیشہ کے لئے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کے روحانی وعلمی بلند مقام کو بیان کرتے رہیں گے۔اور اس سے زیادہ ایک احمدی حضرت مولوی صاحب مرحوم ( اعجاز احمدی ص ۴۰-۴۱)