جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 544 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 544

544 نہایت عمدگی سے گفتگو فرما سکتے تھے۔گفتگو نہایت مدلل فرماتے۔استدلال نہایت وزن دار ہوتا۔آپ جو مضمون سمجھاتے۔نہایت مفید معلومات سے پر ہوتا تھا۔تقریر میں آپ احمدی جماعت میں بلا استثناء سب سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔بلا مبالغہ آپ نے ہزاروں تقریریں فرمائیں۔سینکڑوں مباحثے کئے بیسیوں دفعہ خدا کی بزرگ کتاب کا پورا درس دیا۔ہزاروں لوگ آپ کے علم سے مستفید ہونے والے ہیں۔برسوں تک ہر رمضان میں شدید گرمیوں میں روزہ رکھ کر آپ ایک پارہ کا روزانہ درس دیتے رہے۔اور وہ بھی اس طرح کہ پہلے پارہ پڑھ لیا کرتے تھے۔پھر بلا تامل ترجمہ بیان کرتے۔پھر ضروری مطالب بیان فرماتے۔قرآن مجید کے قریباً سب سے زیادہ عالم تھے۔اور صرف عالم ہی نہیں۔بلکہ نہایت متقی اور باعمل عالم تھے۔آپ کا کیریکٹر قابل نمونہ اور ملامت اور اعتراض کے دھبوں سے صاف تھا وذلك فضل الله يوته من يشاء آپ سے بہت لوگ اپنے خانگی معاملات میں مشورہ لیتے۔اور آپ پوری توجہ سے نہایت صائب مشورہ دیتے تھے۔بیسیوں لوگوں کے تنازعات آپ نے دور فرمائے۔آپ کو خدا نے قبولیت بھی عطا فرمائی تھی۔سب احمدی بچے۔جوان، بوڑھے آپ سے محبت رکھتے تھے۔اور دل و زبان سے آپ کی خوبیوں کے قائل تھے۔آپ نہایت بے شر تھے۔کسی سے جھگڑا نہ تھا۔طبیعت نہایت مستغنی، کسی سے لالچ نہ تھا۔آپ وجیہہ اور بارعب تھے۔آپ پر رویائے صالحہ اور کشف کا دروازہ بھی کئی مرتبہ کھولا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت نورالدین اعظم کو چھوڑ کر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد کوئی حادثہ حافظہ صاحب مرحوم کی وفات کے حادثہ جیہا نہیں ہوا۔آپ نے ہندوستان کے قریباً تمام علاقوں میں تبلیغی دورے کئے۔ہندستان کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے ہمراہ آپ شام و مصر اور ممالک یورپ تک ہو آئے تھے۔ملک شام میں آپ کی تقریروں اور مباحثوں کی دھوم مچ گئی تھی۔آپ سلسلہ عالیہ کے مفتی تھے۔قاضی بھی رہے تھے مکرم مولوی جلال الدین صاحب و مولوی ابوالعطاء صاحب اور دوسرے نوجوان مبلغین آپ کی تعلیم و تربیت کے رہین منت تھے۔آپ نہ صرف خود عالم و مبلغ تھے۔بلکہ عالم ومبلغ گر بھی تھے۔وفات کے وقت آپ جامعہ احمدیہ کے پروفیسر تھے۔ذہین حافظ اور قادر الکلام تھے۔آپ وقت کے بڑے پابند تھے۔باقاعدہ گھڑی رکھتے اور ہر کام کے موقعہ پر گھڑی دیکھتے۔باوجود انگریزی دان نہ ہونے کے پھر بھی انگریزی خوانوں کے مذاق کے مطابق ان سے گفتگو نہایت عمدگی سے کرتے تھے۔۱۹۱۴ء کے اختلاف کے موقعہ پر بہت سی روحوں کے حق پر قائم رہنے کا ثواب خدا چاہے تو آپ کو ہو گا۔آپ مذہبی میدان میں غیر مبائع ، غیر احمدی، آریہ سکھ ، عیسائی اور سناتنی غرض ہر مذہب کے لوگوں سے گفتگو اور مباحثہ کر سکتے تھے۔