جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 541 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 541

541 ۱۹۰۳ء میں جماعت احمدیہ کو ایک نہایت دردناک واقعہ پیش آیا جو سلسلہ کی تاریخ میں ایک یاد گار رہے گا۔اور وہ یہ کہ ۱۹۰۲ء کے آخر میں افغانستان کے علاقہ خوست کے ایک معزز رئیس مولوی عبداللطیف صاحب حضرت مسیح موعود کا نام سن کر قادیان میں آئے اور آپ کی بیعت سے مشرف ہو گئے۔یہ صاحب افغانستان کے بڑے علماء میں سے تھے اور دربار کابل میں ان کی اتنی عزت تھی کہ امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کی رسم انہوں ہی ادا کی تھی۔اور ان کے شاگردوں اور معتقدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔انہوں نے کئی ماہ تک قادیان میں قیام کیا اور حضرت مسیح موعود کی صحبت سے بہت فائدہ اٹھایا اور اس عرصہ میں ان کا ایمان اتنا ترقی کر گیا کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ عشق کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔جب وہ کئی ماہ کے قیام کے بعد اپنے وطن میں واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود کے پاؤں پر گر کر زار زار روئے اور کہنے لگے کہ مجھے نظر آ رہا ہے کہ مجھے اس دنیا میں اس مبارک چہرہ کی زیارت پھر نصیب نہیں ہوگی۔جب وہ کابل میں پہنچے تو امیر حبیب اللہ خان کے دربار میں ایک شور پڑ گیا کہ یہ شخص کافر اور مرتد ہوکر آیا ہے اور جہاد کا منکر ہے اور اگر وہ تو بہ نہ کرے تو اس سزا کا مستحق ہے کہ اسے قتل کر دیا جاوے۔مولوی عبداللطیف صاحب نے انہیں سمجھایا کہ میں ہرگز مرتد یا کافر نہیں ہوں بلکہ اسلام کا خادم اور فدائی ہوں اور اسلام کے متعلق پہلے سے بہت زیادہ محبت اور اخلاص رکھتا ہوں۔ہاں میں نے حضرت مسیح موعود کے دعوئی کو سچا مان کر آپ کو قبول کیا ہے اور یہ ایک حق جسے میں چھوڑ نہیں سکتا اور میں جہاد کا منکر نہیں ہوں البتہ چونکہ اسے زمانہ میں جہاد کی ضرورت نہیں اور وہ حالات موجود نہیں جن میں اسلام نے تلوار کا جہاد جائز رکھا ہے اس لئے میں موجودہ زمانہ میں جہاد بالسیف کا قائل نہیں ہوں۔غرض علماء کے ساتھ مولوی صاحب کی بہت بحث ہوئی مگر کابل کے علماء اپنی ضد پر قائم رہے اور بالآخر انہوں نے متفقہ طور پر مولوی صاحب کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کا فتویٰ دیا۔اس پر امیر حبیب اللہ خان نے مولوی صاحب کو سمجھایا کہ اس وقت ضد اچھی نہیں اور مخالفت کا بہت زور ہے بہتر ہے کہ آپ اپنے عقائد سے توبہ کا اعلان کر دیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے جس بات کو خدا کی طرف سے حق سمجھ کر یقین کیا ہے اسے نہیں چھوڑں گا اور میں اپنی جان کو بچانے کے لئے اپنے ایمان کو ضائع نہیں کر سکتا۔اس پر علماء کے دباؤ کے نیچے آ کر امیر نے مولوی صاحب کے قتل کا حکم دے دیا۔اور قتل کے طریق کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ زمین میں ایک گڑھا کھود کر مولوی صاحب کو اس گڑھے میں کمر تک دفن کر دیا جائے اور پھر ان پر پتھروں کی بارش برسا کر انہیں ہلاک کر دیا جائے۔چنانچہ شہر سے باہر کھلے میدان میں یہ انتظام کیا گیا۔اور کابل کے سب علماء اور رؤساء اور خود امیر اور دوسرے لوگ اس جگہ جمع ہوئے۔جب مولوی صاحب کو کمر تک زمین میں دفن کر دیا گیا اور صرف او پر کا دھڑ باہر رہا تو امیر کا بل پھر آگے بڑھ کر مولوی