جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 542
542 صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ اب بھی وقت ہے اگر آپ تو بہ کر لیں تو علماء کا جوش دب جائے گا۔مگر مولوی صاحب نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور کہا میں کسی قیمت پر بھی اپنے ایمان کو ضائع نہیں کروں گا۔اور اب میری صرف اس قدر درخواست ہے کہ تم جلدی کرو تا کہ جو پردہ مجھے جنت سے جدا کر رہا ہے وہ درمیان سے اٹھ جاوے۔اس پر امیر نے پتھراؤ کا حکم دیا جس پر اس زور سے پتھر بر سے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پتھروں کا ایک پہاڑ کھڑا ہو گیا اور اس عاشق مسیح کی روح اپنے ابدی ٹھکانہ میں پہنچ گئی۔جب حضرت مسیح موعود کو اس واقعہ کی اطلاع پہنچی اور ساتھ ہی یہ خبر بھی ملی کہ اس سے قبل مولوی عبداللطیف صاحب کے ایک شاگرد مولوی عبد الرحمن صاحب کو بھی کابل میں شہید کیا گیا تھا تو آپ کو بہت صدمہ پہنچا مگر اس جہت سے خوشی بھی ہوئی کہ آپ کے ان دو خلصین نے ایمان کا ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا ہے جو صحابہ کے زمانہ کی یاد کو تازہ کرتا ہے۔چنانچہ آپ نے اس واقعہ شہادت کے متعلق ایک کتاب ”تذکرہ الشہادتین لکھ کر شائع فرمائی اور اس میں بتایا کہ وہ الہام جو خدا نے کئی سال ہوئے آپ پر نازل کیا تھا کہ دو بے گناہ بکرے ذبح کئے جائیں گے وہ ان دو شہادتوں سے پورا ہوا ہے۔اس کے بعد افغانستان میں احمدیوں پر سخت مصائب کا زمانہ شروع ہو گیا اور ان میں سے بہت لوگ اپنے وطن سے بھاگ کر قریب کے انگریزی علاقہ میں آگئے اور بعض قادیان میں ہجرت کر آئے اور ان لوگوں کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔اور جو لوگ پیچھے ٹھہرے وہ چھپ چھپ کر اور اپنے ایمان کو خفی رکھ کر ٹھہرے مگر ساتھ ہی مولوی عبداللطیف صاحب کی شہادت نے کابل میں ایک بیج بھی بود یا اور بعض سعید طبیعتوں میں یہ جستجو پیدا ہوگئی کہ اس سلسلہ کے حالات معلوم کریں جس کے ایک فرد نے اپنے ایمان کی خاطر اس دلیری کے ساتھ جان دی ہے چنانچہ کچھ عرصہ کی خاموشی کے بعد پھر اندر ہی اندر احمدیت کا درخت بڑھنا شروع ہوا۔اور اب افغانستان کے مختلف حصوں میں ایک کافی جماعت پائی جماعتی ہے۔مگر اب تک بھی یہ لوگ کھل کر ظاہر نہیں ( سلسلہ احمدیہ ص ۱۴۰ تا ۱۴۲) ہو سکتے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی شہادت پر فرمایا:۔” اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔“ تذكرة الشہا دتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۰)