جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 16 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 16

16 آنے والے کسی مصلح اور فرستادے کا بھی بڑی شدت سے انتظار ہو رہا تھا۔جس طرح قحط سالی کے ایام میں نگاہیں آسمان کی طرف لگ جاتی ہیں اسی طرح ایک موعود اقوام عالم کا انتظار ہو رہا تھا اور عصر حاضر کے تمام مسلم اور غیر مسلم اکابرین، دانشور، سکالرز اور علماء کی کتب اور ارشادات و ملفوظات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ وقت تھا جس میں ایک موعود اقوام عالم کی بعثت کی ضرورت تھی اور تمام بزرگ اور علماء اسی نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ اب اس بگاڑ کی اصلاح سوائے مامور من اللہ کے اور کوئی بھی نہیں کر سکتا۔چنانچہ جناب مولوی سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب بانی جماعت اسلامی نے عام لوگوں کے شدت انتظار کا ذکر ان الفاظ میں کیا۔فرماتے ہیں:۔لوگ امامت دین کی تحریک کے لئے کسی ایسے مرد کامل کو ڈھونڈتے ہیں جو ان میں سے ایک ایک کے تصور کمال کا مجسمہ ہو، دوسرے الفاظ میں یہ لوگ دراصل کسی نبی کے طالب ہیں اگر چہ زبان سے ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔“ اخبار ” مسلمان ۲۸ فروری ۱۹۴۳ء) امام الہند جناب مولانا ابوالکلام آزاد اپنے زمانہ میں امام مہدی کے لئے شدید انتظار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اگر ان میں سے کسی بزرگ کو چند لھوں کے لئے قوم کی حالت زار پر بھی توجہ بھی ہوتی تھی تو یہ کہہ کر خود اپنے معتقدین کے دلوں کو تسکین دے دیتے تھے کہ اب ہماری اور تمہاری کوششوں سے کیا ہو سکتا ہے۔اب تو قیامت قریب ہے اور مسلمانوں کی تباہی لازمی۔سارے کاموں کو امام مہدی کے نکلنے کی انتظار میں ملتوی کر دینا چاہئے۔اس وقت ساری دنیا خود بخود مسلمانوں کے لئے خالی ہو جائے گی۔“ ( تذکر طبع دوم ص ۱۰) مشہور عالم مولاناسیدابوالحس على ندوی معتمد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو د کن عربی اکیڈمی دمشق لکھتے ہیں :۔مسلمانوں پر عام طور پر یاس و نومیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا۔۱۸۵۷ء کی جدو جہد کے انجام اور مختلف دینی و عسکری تحریکوں کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لوگ مایوس ہو چلے تھے اور عوام الناس کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور ملہم اور مؤید من اللہ کی آمد کی منتظر تھی کہیں کہیں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا تھا کہ تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا ظہور ضروری ہے۔مجلسوں میں زمانہ آخر کے نوشتوں اور واقعات کا چرچا تھا۔“ جناب اکبرالہ آبادی اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں: ؎ ( قادیانیت ص ۱۷)