جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 15 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 15

15 رسالہ معارف اسلام لا ہور جو اہل تشیع کا تر جمان ہے۔لکھتا ہے:۔”سب سے بڑی مشکل یہ کہ وہ حیح تعلیم اسلام کہاں سے ملے؟ اسلام میں اتنے فرقے ہو گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص تعلیم اسلام کی تلاش کرنے نکلے تو ڈر ہے کہ کہیں پہلا ہی قدم دلدل میں نہ پھنس جائے۔اب ہمیں جناب رسول خدا کا کہنا یاد آیا کہ جس نے صحیح امام زمانہ کی معرفت حاصل نہ کی وہ کافر مرا“ مولانا الطاف حسین حالی فرماتے ہیں: ؎ تعارف اسلام نومبر دسمبر ۱۹۶۴ ء ص ۱۱) رہا دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی ایک مغربی مفکر لو تھرپ سٹاڈر ڈا ٹھارویں صدی عیسوی میں دنیائے اسلام کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے:۔مذہب بھی دیگر امور کی طرح پستی میں تھا۔تصوف کے طفلانہ تو ہمات نے خالص اسلامی توحید پر پردہ ڈال دیا تھا۔مسجد میں ویران اور سنسان پڑی تھیں۔جاہل عوام ان سے بھاگتے تھے اور تعویذ گنڈے میں پھنس کر فقیروں اور دیوانے درویشوں پر اعتقاد رکھتے تھے اور ان بزرگوں کے مزاروں پر زیارت کو جاتے جن کی پرستش بارگاہ ایزدی میں شفیع اور ولی کے طور پر کی جاتی۔۔۔قرآن کریم کی تعلیم نہ صرف پس پشت ڈال دی گئی بلکہ اس کی خلاف ورزی بھی کی جاتی تھی۔یہاں تک کہ مقامات مقدسہ بد اعمالیوں کے مرکز بن گئے تھے۔فی الجملہ اسلام کی جان نکل چکی تھی اور اگر محمد پھر دنیا میں آتے تو وہ اپنے پیروؤں کے ارتداد اور بت پرستی پر بیزاری کا اظہار فرماتے۔“ (اقبال نامہ ص ۴۶۱) جناب مولوی شکیل احمد صاحب سہسوانی نے ۱۳۰۹ھ میں اسلام کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: دین حق کا اب زمانے سے مٹا جاتا ہے نام قهر ہے اے میرے اللہ ! ہوتا کیا ہے الغیب ہے آئینہ ہے حال کیا کہوں ملت اسلام کا نقشہ کیا ہے رات دن فتنوں کی بوچھاڑ ہے بارش کی طرح گر ہو تیری صیانت تو ٹھکانہ کیا ہے الحق الصريح فی حیاة امسیح ص ۱۳۳ مطبوعہ ۱۳۰۹ھ ) اس حقیقت کا صرف زبانی ہی اعتراف نہیں کیا گیا بلکہ اصلاح احوال کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے