جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 506 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 506

506 فارسی شعر نظر آیا ہے جو میرے اس نوٹ کا عنوان ہے اور جس کا اردو زبان میں سلیس اور آزاد ترجمہ یہ ہے کہ اے احمدیت کے نوجوانو! دین کے رستہ میں اپنی کوششوں ، اپنی جدو جہد کو اس اخلاص اور اس ذوق و شوق اور اس جذبہ قربانی کے ساتھ جاری رکھو کہ تمہاری اس مجاہدانہ مساعی کے نتیجہ میں دین کو غیر معمولی مضبوطی حاصل ہو جائے اور اسلام کا باغ و مرغزار پھر دوبارہ ایک نئی رونق و بہار کے ساتھ مخالفوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے لگے۔پس یہی وہ مقصد و منتہی ہے جو ہمارے نوجوانوں کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔فاروق ہوں یا خالد اور قلم ہو یا سیف۔سب اپنے اپنے میدان میں اور اپنے اپنے وقت پر اسلام اور صداقت کے خادم ہیں۔صرف مومن کی نیت پاک وصاف ہونی چاہئے اور اس کے قلب میں سیمابی ولولہ، پھر اس کے آگے رستہ بالکل صاف ہے۔كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ) یہ وقت خاص خدمت کا ہے کیونکہ احرار کی مخالفت نے جماعت کے لئے تبلیغ کا راستہ اس طرح کھول دیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی اس طرح نہیں کھلا تھا۔بے شک مخالفت بہت سخت اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن یہی وہ وقت ہے جبکہ سعید روحیں خواب غفلت سے بیدار ہو کر تحقیق کی طرف مائل ہو رہی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمان بڑی صراحت اور وضاحت کے ساتھ پورا ہورہا ہے کہ الہبی جماعتوں کے لئے مخالفت وہی کام دیا کرتی ہے جو ایک عمدہ کھیت کے لئے کھا دیتی ہے۔پس اے عزیز و اور بھائیو!! زندگی کی ان قیمتی گھڑیوں کو غنیمت جانو۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ ماحول کا یہ زریں موقعہ کب بدل جائے یا تمہاری اپنی زندگی کا یہ دور کب ختم ہو جائے ؟ اسی لئے ہمارے آقا اور امام نے جہاں وہ شعر ارشادفرمایا ہے جو اس نوٹ کے عنوان میں درج ہے وہاں دوسری جگہ یہ انتباہ بھی فرمایا ہے کہ بے خیر بخدمت فرقاں کمر بند زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نماند اے اور اسی پر میں اپنا یہ مختصر پیغام کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کی جملہ نیک مساعی میں آپ کا حافظ و ناصر رہے۔امین یا ارحم الراحمین والسلام خاکسار۔مرزا بشیر احمد۔ربوہ ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۵ اص ۴۱۳ تا ۴۱۵ ) ”ماہنامہ خالد خدا تعالیٰ کے فضل سے اب بھی جاری وساری ہے اور خدام الاحمدیہ کی تعلیم وتربیت میں بڑا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔الحمد للهِ عَلَى ذَلِكَ