جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 507 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 507

507 ماہنامہ انصار اللہ ربوہ حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت میں ذیلی تنظیموں کا نظام قائم فرمایا۔جس نے احباب جماعت کی علمی، روحانی اور اخلاقی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔۴۰ سال سے بڑی عمر کے احباب کی تنظیم انصار اللہ کا قیام ۱۹۴۰ء میں ہوا۔اس تنظیم کے اراکین کی تعلیم و تربیت اور تنظیمی مساعی کی اشاعت کے لئے ضرورت تھی کہ تنظیم کا اپنا علیحدہ رسالہ ہو۔اس ضرورت کے تحت ۱۹۵۹ء کی مجلس شوریٰ میں یہ فیصلہ ہوا کہ مجلس انصاراللہ مرکز یہ ایک ماہوار رسالہ شائع کرے جس میں مجلس انصار اللہ کے متعلق پروگرام ، اخبار مجالس، ضروری ہدایات اور دینی و تربیتی مضامین شائع کئے جائیں اور فیصلہ ہوا کہ ہر مجلس کے لئے اس کی خریداری لازمی قرار دی جائے۔اس فیصلہ کے مطابق نومبر ۱۹۶۰ء میں ایک ماہوار رسالہ کی اشاعت شروع ہوگئی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تجویز کے مطابق اس رسالہ کا نام ”انصار اللہ " رکھا گیا۔ماہنامہ انصار اللہ کا اجراء حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے عہد صدارت میں ہوا۔آپ اس میں خصوصی دلچسپی لیتے تھے۔محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو اس کے بعد ایک عرصہ تک آپ رسالہ انصار اللہ کا مسودہ ملاحظہ فرمایا کرتے تھے۔نومبر ۱۹۶۰ء میں ماہنامہ انصار اللہ ربوہ کا پہلا شمارہ نکلا۔رسالہ کے مدیر محترم مسعود احمد خان صاحب دہلوی، طابع و ناشر چوہدری محمد ابراہیم صاحب تھے اور یہ رسالہ ضیاء الاسلام پر لیس ربوہ سے شائع ہوا۔رسالہ کی قیمت فی پر چہ آٹھ آنے اور سالانہ قیمت ۵ روپے مقرر ہوئی۔پہلا شمارہ ۴۸ صفحات پر مشتمل تھا۔رسالہ کے اولین کا تب منشی نورالدین صاحب خوشنویں تھے۔رسالہ کے اداریہ میں رسالہ کے مقاصد اور اس میں شائع ہونے والے مواد کے بارہ میں معلومات دی گئیں تھیں۔اداریہ کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام محرره ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۰ء شائع ہوا جو ماہنامہ انصار اللہ کے اجراء پر اس کے مقاصد پر روشنی ڈالنے والا تھا۔پہلے شمارہ میں ارشادات و منظوم کلام حضرت مسیح موعود اور فرمودات حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے علاوہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ ) ، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب، شیخ محبوب عالم خالد صاحب، مولانا شیخ روشن دین صاحب تنویر اور محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے مضامین بھی شامل اشاعت تھے۔اسی طرح پہلے شمارہ میں بچوں کے لئے ایک صفحہ بھی مخصوص کیا گیا تھا۔اخبار مجالس میں انصار اللہ بلوچستان کے علاقائی اجتماع کی رپورٹ بھی شائع کی گئی تھی۔(بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ اکتوبر ۲۰۱۰ء) یہ رسالہ اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے با قاعدگی کے ساتھ جاری ہے اور انصار اللہ کی تعلیم وتربیت میں اہم کردار دا کر رہا ہے۔اور آجکل مکرم محمدمحمود طاہر صاحب شعبہ اشاعت و تصنیف صد را مجمن احمد یہ ربوہ اس