جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 505 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 505

505 سید نا حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں نئے نام کے لئے درخواست کی۔حضور نے فرمایا ” خالد نام رکھ دیں۔چنانچہ ۳۱ / امان ۱۳۳۱اہش / مارچ ۱۹۵۲ء کو خالد کے ڈیکلریشن کی درخواست دی گئی۔کئی ماہ کی یاد دہانیوں اور دفتری پیچیدگیوں اور محکمانہ کارروائیوں کے بعد ۶ ستمبر ۱۹۵۲ءکو ڈیکلریشن کی باضابطہ منظوری ہوئی اور ساتھ ہی ایک ہزار روپیہ کی ضمانت کا مطالبہ بھی ہوا جس کے داخل کرانے کی آخری تاریخ ۱۶ ستمبر ۱۹۵۲ تھی۔مجلس کے پاس اس قد ر و پریہ نہیں تھا بڑی دوڑ دھوپ کے بعد ے ار ستمبر کورو پی کا انتظام ہوسکا لیکن جھنگ پہنچ کر معلوم ہوا کہ وقت پر ضمانت داخل نہ کرنے پر ڈیکلریشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔اس پر دوبارہ درخواست دی گئی اور بالآ خر ۲ را کتوبر ۱۹۵۲ء کو ڈیکلریشن ملا اور زرضمانت داخل کرا دی گئی۔اس طرح نہایت لمبی جد و جہد اور صبر آزما حالات میں سے گزرنے کے بعد اکتو بر۱۹۵۲ء میں رسالہ ” خالد “ جاری ہوا۔خالد کے پہلے دو پرچے مولوی غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعہ احمدیہ، مولوی خورشید احمد صاحب شاد پروفیسر جامعہ احمدیہ اور مولوی محمد شفیع صاحب اشرف کے زیر ادارت چھپے۔اس کے بعد مولوی غلام باری صاحب سیف مدیر مقرر ہوئے۔مینجر کی خدمت شروع ہی میں سید عبدالباسط صاحب نائب معتمد مرکزیہ کے سپرد کی گئی۔اداریہ کے علاوہ مشعل راہ ، جواہر پارے، روشن ستارے، ہماری مساعی دنیا کے کناروں تک، کوائف ربوہ اور اطفال الاحمدیہ اس کے مستقل فیچر قرار پائے۔اس ابتدائی دور میں پہلے سال رسالہ ”خالد کو جوعلمی معاونین میسر آئے ان میں ملک سیف الرحمن صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ مفتی سلسلہ احمدیہ، مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری، جناب حسن محمد خاں صاحب عارف نائب وکیل التبشیر ،مولوی نورالحق صاحب انور فاضل ( مبلغ امریکہ ) بھی شامل تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کے اجراء پر حسب ذیل پیغام سپرد قلم فرمایا:۔بکوشید اے جواناں تا به دیں قوت شود پیدا بہار , رونق اندر روضه ملت شود پیدا مجھے مولوی غلام باری صاحب سیف معتمد مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ ربوہ نے اطلاع دی ہے کہ ان کی مجلس مرکزیہ کے زیر انتظام ایک ماہوار رسالہ "خالد" نامی جاری ہو رہا ہے اور سیف صاحب نے جنہیں ”خالد“ کے نام کے ساتھ ایک اہم تاریخی جوڑ حاصل ہے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں بھی اس رسالہ کے پہلے نمبر کے لئے کوئی مختصر سا پیغام لکھ کر دوں جو جماعت کے نوجوانوں کی ہمتوں کو بڑھانے والا ہو اور ان میں کام کی روح پھونکنے والا ہو۔سو مجھے اس پیغام کے لئے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ