جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 14
14 میں کیمونزم سے کیوں ٹکراؤں وہ کونسا اسلام ہے جس پر کیمونزم ضربیں لگا رہا ہے۔ہمارا اسلام ہے۔بتوں ނ تجھ کو تمنا خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے یہ اسلام جو تم نے اختیار کر رکھا ہے کیا یہی اسلام ہے جو نبی نے سکھلایا تھا۔کیا ہماری رفتار و گفتار اور کردار میں وہی دین ہے جو خدا نے نازل کیا تھا؟ یہ روزے اور نماز میں جو ہم میں سے بعض بعض پڑھتے ہیں ان کے پڑھنے میں ہم کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟ جو مصلی میں کھڑا ہے وہ قرآن سنانا نہیں جانتا اور جو سنتے ہیں وہ نہیں جانتے کیا سن رہے ہیں اور باقی تمیں گھنٹے ہم کیا کرتے ہیں میں کہتا ہوں کہ گورنری سے لے کر گدا گری تک مجھے ایک بات ہی بتلاؤ جو کہ قرآن اور اسلام کے مطابق ہو پھر میں کیمونزم سے کیوں لڑوں۔۔۔۔ہمارا تو سارا نظام کفر ہے قرآن کے مقابلہ میں ہم نے ابلیس کے دامن میں پناہ لے رکھی ہے۔قرآن صرف تعویز کے لئے اور قسم کھانے کے لئے ہے۔“ ( آزاد و دسمبر ۱۹۴۹ء) جناب شورش کا شمیری ایڈیٹر رسالہ 'چٹان لاہور لکھتے ہیں:۔اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ ایک زوال پذیر قوم کی تمام نشانیاں انہوں نے قبول کر رکھی ہیں۔ایک قوم کی حقیقی روح اس کی معنوی زندگی ہے اگر کسی قوم میں معنوی زندگی نہ رہے تو وہ قوم بدیر یا سور عملاً مردہ ہو جاتی ہے۔روسی ترکستان کو یہی حادثہ پیش آیا۔( چٹان ۹ / اگست ۱۹۶۳ء) اسی طرح جناب شورش صاحب علماء زمانہ کے بارے میں رقمطراز ہیں:۔وو جتنا نقصان ہمارے علما محترم کی اکثریت نے اسلام کو پہنچایا اتنا شدید نصرانیت اور مجوسیت کے اجتماعی حملے نے بھی نہ پہنچایا ہو گا۔لوگ مرتد اس لئے ہورہے ہیں کہ ان کے لئے اسلام میں دلکشی نہیں رہی لوگ اس لئے مرتد ہورہے ہیں کہ جو لوگ مسند رسول کے وارث ہیں اور جنہوں نے اپنے ناموں کے ساتھ خطابات حسنہ کا ایک انبار لگارکھا ہے ان کے اعمال و افعال عامتہ الناس کو مرتد کر رہے ہیں۔“ (رسالہ چٹان لاہورے ستمبر ۱۹۶۴ء) رسالہ تائید اسلام اچھرہ لاہور لکھتا ہے:۔چودھویں صدی کا زمانہ تھا فتنے ہر طرف ٹوٹ رہے تھے یہ وہی زمانہ ہے کہ جس کے متعلق خواجہ ہر دو عالم فخر الاولین والآخرین پیشگوئی فرما گئے تھے کہ آسمان کے نیچے سب سے زیادہ اشرار الناس علماء سوء ہوں گے۔فرمایا مِنْهُمْ تَبْدَءُ الفِتْنَةُ وَ فِيهِمُ تعود۔ان شریروں ہی سے فتنہ شروع ہوگا پھر قیامت میں و بال اس کا کم بختوں پر ہی عائد ہوگا۔( تائید اسلام اچھرہ لا ہورص۱۲۔۲۸ ستمبر ۱۹۲۸ء) دور