جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 486
486 مقام منشی محمد افضل مرحوم ہو گئے ہیں۔میری دانست میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اس اخبار کی قسمت جاگ اٹھی ہے کہ اس کو ایسا لائق اور صالح ایڈیٹر ہاتھ آیا۔خدا تعالیٰ یہ کام ان کے لئے مبارک کرے اور ان کے کاروبار میں برکت ڈالے۔آمین ثم آمین۔حضرت اقدس کی یہ فراست حرف بحرف صحیح نکلی اور حضرت مفتی صاحب رضی اللہ عنہ کے زمام ادارت سنبھالتے ہی سچ مچ اخبار کی قسمت جاگ اٹھی اور اس کا نام اور دو پر چوں کے بعد تفاؤل کے طور پر بدر رکھا گیا۔بدر دسمبر ۱۳ء تک باقاعدگی سے نکلتا رہا اور پھر بند ہو گیا۔قریباً چالیس برس کے وقفہ کے بعد ۷/ مارچ ۱۹۵۳ء کو درویشان قادیان کی ہمت سے دوبارہ اس کا احیاء عمل میں آیا۔موجودہ دور جدید میں اس کے پہلے ایڈیٹر مولوی برکات احمد صاحب را جیکی مقرر ہوئے۔بعدہ یہ اخبار قادیان سے مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔( تاریخ وفات مولانامحمد حفیظ صاحب ۵ نومبر ۱۹۸۷ء) یہ اخبار اب بھی قادیان سے شائع ہورہا ہے۔اخبار ” البدر بدر کی شاندار خدمات و اخبار الحکم کی طرح اخبار البدر" اور "بدر" نے بھی مسیح پاک علیہ السلام کے تازہ الہامات و ملفوظات، اکابر سلسلہ کے مضامین اور مرکزی خبروں کے بروقت جماعت تک پہنچانے میں شاندار خدمت سرانجام دی ہیں اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک باز والحکم کو اور دوسرا اسے قرار دیا کرتے اور فرمایا کرتے تھے یہ اخبار انکم و بدر ہمارے دو بازو ہیں۔الہامات کو فور املکوں میں شائع کرتے ہیں اور گواہ بنتے ہیں۔خلافت اولی کے زمانہ میں اس اخبار کو یہ بھاری خصوصیت بھی حاصل ہوئی کہ اس میں حضرت خلیفہ اسی الاول کا درس قرآن اور درس بخاری اور آپ کی ڈائری بھی ” کلام امیر" کے نام سے الگ الگ ضمیمہ کی شکل میں شائع تاریخ احمدیت جلد نمبر ۲ ص ۲۲۲٬۲۲۱ نیا ایڈیشن) ہوتی تھی۔وو ریویو آف ریلیجز ( اردو اور انگریزی ) کا اجراء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے (۱۹۰۱ء) میں جس رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی تجویز فرمائی تھی وہ مولوی محمد علی صاحب کی ادارت میں انگریزی اور اردو ہر دو زبان میں جنوری ۱۹۰۲ء سے جاری ہو گیا۔66 انگریزی رسالہ تو ابتداء سے کچھ عرصہ تک لاہور میں ہی شائع ہوتا رہامگر اردو ایڈیشن کا پہلا پر چہل ہور کے مطبع