جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 487
487 فیض عام لاہور میں چھپا۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب تراب کے انوار احمد یہ پریس قادیان میں طبع ہونے لگا۔وو ریویو کا اندرون ملک اور مغربی ممالک پر اثر شروع شروع میں رسالہ کے اکثر اردو مضامین حضور ہی کے لکھے ہوتے تھے اور بعض مضامین کے متعلق نوٹ لکھا کے راہنمائی فرماتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور کی روحانی توجہ کی بدولت رسالہ کو اندرون ملک میں ہی نہیں مغربی ممالک میں بھی بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔اندرون ملک میں پہلے ہی سال اس سے متاثر ہو کر کئی سعید روحوں نے حق قبول کیا بلکہ مدراس کے ایک ہندو دوست رسالہ کا اپنی زبان میں ترجمہ سن کر حضرت اقدس کی زیارت کے شوق میں قادیان بھی پہنچے۔علاوہ ازیں ملک کے اسلامی اخبارات نے اس پر تبصرے لکھے چنانچہ رسالہ ”البیان (لکھنو ) نے لکھا:۔ریویو آف ریلیجنز ہی ایک ایسا پرچہ ہے جس کو خالص اسلامی پر چہ کہنا صحیح ہے۔ہم نے اس کے کئی نمبر دیکھے اور ہم کو اس امر کے ظاہر کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ عربی میں ” المنار“ اور اردو میں ریویو آف ریلیچر سے بہتر پرچے کسی زبان میں شائع نہیں ہوتے مسلمانوں کو خوش ہونا چاہئے کہ ہندوستان میں ایک ایسا 66 رسالہ نکل رہا ہے جس کے زور دار مضامین پر علم وفضل کو ناز ہے۔“ پھر لکھا کہ : ”ہندوستان کا بہترین اسلامی میگزین ہے“۔رسائل کے علاوہ عوام نے بھی اس رسالہ کا بڑا خیر مقدم کیا۔چنانچہ مٹر میبلین ( پالم پور ) نے لکھا:۔مجھے 66 اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے تیرہ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مگر اب تک میں نے ایک بھی ایسی کتاب نہیں پڑھی جس میں اسلام کی حمایت اس قدر زور کے ساتھ کی گئی ہو جیسا کہ آپ کے شاندار پرچے ہیں۔“ اخبار ”ملت‘ لاہور نے لکھا:۔اب تک جتنے اعلیٰ اور بے نظیر مضامین رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ذریعہ مرزا صاحب کے اصول مناظرہ کے مطابق یوروپین لوگوں کی نظروں سے گزرے ہیں انہوں نے یورپ کی مذہبی دنیا میں ہلچل مچادی ہے اور پادریوں کے گروہ ماتم زدہ نظر آ رہے ہیں۔ان مضامین نے کثیر التعداد یورپین لوگوں کو اسلام کے روحانی چشمہ سے سیراب کر دیا ہے اور ابھی اس کا فیض جاری ہے۔“ مغربی ملکوں میں جن تک اسلام کی آواز پہنچانے کے لئے یہ رسالہ جاری ہوا تھا تین رنگ میں اس کا اثر ظاہر ہوا پہلا اثر یہ ہوا کہ یورپ اور امریکہ کے نو مسلم انگریزوں میں اسلام کے لئے نیا جوش اور نیاولولہ پیدا کیا۔