جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 485
485 جماعت کے ایک نئے دور کا سنگ میل بن گیا۔۱۹۰۱ ء تک اخبار ” الحکم“ نے یہ بے مثال خدمت تنہا سرانجام دی۔جو ایک غیر معمولی بات ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بابرکت کلمات اور الہامات مقدس کی نشر و اشاعت کی مقدس امانت کے اٹھانے میں اخبار البدر بھی شامل ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام الحکم اور بدر کو جماعت کے دو بازو کہ کر یاد فرمایا کرتے تے تے تھے۔۱۹۳۴ء میں الحکم دوبارہ اجراء پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خاص طور پر ایک پیغام دیا۔جس میں تحریر فرمایا۔الحکم سلسلہ کا سب سے پہلا اخبار ہے۔اور جو موقعہ خدمت کا اسے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری زمانہ میں بدر کو ملا ہے۔وہ کروڑوں روپیہ خرچ کر کے بھی اور کسی اخبار کو نہیں مل سکتا۔میں کہتا ہوں کہ الحکم اپنی ظاہری صورت میں زندہ رہے یا نہ رہے لیکن اس کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ 66 ہے۔سلسلہ کا کوئی مہتم بالشان کام اس کا ذکر کئے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تاریخ سلسلہ کا حامل ہے۔“ ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد نمبر ا ص ۶۴۱ تا ۶۲۴۳ نیا ایڈیشن) اخبار ” البدر“ کا اجراء اس وقت تک مرکز سے صرف ایک اخبار الحکم“ شائع ہوتا تھا لیکن اس سال با بومحمد افضل صاحب آف مشرقی افریقہ اور ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر کی کوشش سے ۳۱ اکتو بر ۱۹۰۲ء سے دوسرا ہفت روزہ ”البدر کے نام سے جاری ہو گیا جس کا پہلا نمونہ کا پرچہ القادیان کے نام سے چھپا مگر اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے اس کا نام ” البدر تجویز فرمایا اور اس کے اجراء کی اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”ہماری طرف سے اجازت ہے خواہ آپ ایک سوپر چہ جاری کریں شاید اللہ تعالیٰ اس میں ہی برکت دے دے۔“ البدر‘ کے مالک و مدیر محمد افضل صاحب اور مینجر منشی فیض عالم صاحب صابر تھے۔محمد افضل صاحب موصوف نہایت اخلاص سے ادارت کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے کہ ۲۱ مارچ ۱۹۰۵ء کو اچانک انتقال کر گئے۔جس پر اخبار میاں معراج الدین صاحب عمر نے خرید لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مفتی محمد صادق صاحب کو جو ان دنوں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اخبار ” البدر کا ایڈیٹر مقررفرمایا اور ۳۰ مارچ ۱۹۰۵ء کو ایک خاص اعلان کے ذریعہ سے جماعت کو اطلاع دی کہ میں بڑی خوشی سے یہ چند سطریں تحریر کرتا ہوں کہ اگر چہ منشی محمد افضل مرحوم ایڈیٹر اخبار البدر قضائے الہی سے فوت ہو گئے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے شکر اور فضل سے ان کا نعم البدل اخبار کو ہاتھ آ گیا ہے یعنی ہمارے سلسلہ کے ایک برگزیدہ رکن جوان صالح اور ہر ایک طور سے لائق جن کی خوبیوں کو بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں یعنی مفتی محمد صادق صاحب بھیروی قائم