جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 329 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 329

329 اس ادارہ میں بعض ایسے ٹریڈ ز سکھانے کا کام جاری ہے۔جس کی معاشرے میں بہت مانگ ہے نیز انم (Income) کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس امر کے پیش نظر دار الصناعة ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں آج کل پلمبنگ ، آٹو مکینک ، آٹو الیکٹریشن، جنرل الیکٹریشن ریفریجریشن وائر کنڈیشننگ اور ووڈورک کی صبح اور شام کی کلاسز جاری ہیں آٹو مکینک کے طلباء کی عملی تربیت کے لئے فائرسٹیشن بلڈنگ میں دار الصناعہ آٹو ورکشاپ قائم کی گئی ہے۔جس میں تجربہ کار ماہرین کی زیر نگرانی مختلف ادارہ جات کی گاڑیوں کے علاوہ پرائیویٹ گاڑیوں کی مرمت بھی کی جاتی ہے۔ٹف ٹائلز بنانے کا ایک پلانٹ بھی ادارہ کے تحت محلہ دار الفضل میں لگایا گیا ہے جو مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کے تحت تعمیر ہونے والی عمارات کے علاوہ تجارتی بنیادوں پر نہایت اعلیٰ معیار کی ٹائل بنا کر سپلائی کر رہا ہے۔اب تک اس ادارہ سے ۷۰۰ سے زائد طلباء مختلف کورسز مکمل کر کے فارغ ہو چکے ہیں۔جن میں سے اکثر سے زائد برسر روزگار ہو چکے ہیں اور مزید نو جوان نئی کلاسز میں کورس کر رہے ہیں ربوہ کے روحانی ماحول میں ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ تربیتی پہلوؤں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔جو ہمارا بنیادی مقصد ہے دار الصناعۃ میں شامل کلاسز میں وقت کی مناسبت سے نماز عصر، مغرب اور عشاء باجماعت ادا کی جاتی ہیں۔اس ادارہ کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کے لئے محلہ دار الفضل میں 10 کنال اراضی حاصل کی جا چکی ہے۔جس میں سے دو کنال صدر انجمن احمدیہ، چار کنال وقف جدید اور بقیہ چار کنال مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان نے خریدی ہے۔جس پر انشاء اللہ مستقبل میں دار الصناعۃ کی ایک وسیع وعریض عمارت تعمیر کی جائے گی اسی عمارت میں بیرون از ربوہ طلباء کی رہائش کے لئے ہوٹل کا بھی انتظام ہوگا۔دعا کی درخواست ہے کہ خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے ادارہ کو ترقیات سے نوازے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خواہش کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین ) طاہر ہومیو پیتھک ہسپتال وریسرچ انسٹیٹیوٹ ربوہ مورخه ۲ مارچ ۲۰۰۰ ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے طاہر ہومیو پیتھک اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے صدر صاحب خدام الاحمدیہ پاکستان کو تحریر فرمایا کہ:۔در مجلس خدام الاحمدیہ خدمت خلق کے تحت ہو میو پیتھی کے فروغ کے لئے جس وسیع منصوبے کا ارادہ رکھتی ہے میں اس کی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔بہت نیک کام ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔لوگ شفاء پائیں۔“ (بحوالہ ماہنامہ خالد جولائی ۲۰۰۵ء)