جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 328
328 رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہے۔یہ بات بھی آج کے جدید دور میں نہایت واضح ہے کہ ملک کی ترقی ٹیکنیکل تعلیم و تربیت کے بغیر ممکن نہیں اور حصول تعلیم خصوصی بنیادوں پر اس لئے ضروری ہے کہ ملک سے پسماندگی، غربت اور بے روزگاری کو ختم کیا جا سکے اور مجموعی طور پر عوام کا معیار زندگی بلند کیا جا سکے۔اس لئے اس امر کی شدت سے ضرورت ہے کہ درسی تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل تعلیم کے حصول کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ادارہ دار الصناعۃ کے درج ذیل مقاصد ہیں۔ا۔بے روز گار افرادکو نہ صرف ہنر سکھانا بلکہ باعزت روزگار کے حصول میں ممکن حد تک مددفراہم کرنا۔۲۔بڑھتی ہوئی فوری ضرورت کے لحاظ سے پروفیشنلز مہیا کر ناجو ملک کی قومی صنعتی اور معاشی ترقی میں بھر پور کردار ادا کریں۔۳۔بے کار افراد کو کار آمد اور مفید شہری بنا کر معاشرہ کا ایک اہم فرد بنانا اور اس کے ساتھ ساتھ آنے والے اوقات اور آئندہ نسلوں کو مکمل تربیت و ہنر اور اعلیٰ مہارت سے آراستہ کر کے ان کو ملکی ترقی کیلئے فعال بنانا۔۴۔بڑھتے ہوئے قومی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے فنی اور تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا۔۵۔طلباء کو اعلی معقول اور مناسب آدمی کے حصول کے ذریعے اپنے خاندان اور ملک وقوم کی بہتر طور پر خدمت بجالانے کے اہل بنانا۔مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی بھر پور کوشش ہے کہ ادارہ دارالصناعۃ میں جماعت احمدیہ کے فارغ التحصیل نوجوان یا ایسے نوجوان جو اپنی تعلیم کسی بھی وجہ سے جاری نہیں رکھ سکے۔انہیں مختلف ٹریڈز میں فنی تربیت دے کر اس قابل بنایا جا سکے کہ کوئی نو جوان بیکار نہ رہے اور ادارے سے فارغ ہونے کے بعد زینہ بہ زینہ کامیابیاں حاصل کرتا رہے۔کلاسز کا آغاز اس ادارہ نے فوری ضرورت کے تحت ایک عمارت ( فیکٹری ایریا ) ربوہ میں کرایہ پر حاصل کر کے کام کا آغاز کیا اور ۱۵ فروری ۲۰۰۴ ء سے با قاعدہ آٹو مکینیک کی کلاس شروع ہوئی جبکہ مئی ۲۰۰۴ ء سے آٹو الیکٹریشن، جنرل الیکٹریشن ، کوکنگ اور کارپینٹر کی کلاس کا اجراء ہوا۔(رساله خالد نومبر ۲۰۰۴ ء ص ۳۵) مورخه ۱۹ستمبر ۲۰۰۴ء کو شام ۷۳۰ بجے دار الصناعة ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔جس میں آٹو مکینک کی پہلی کلاس میں کامیاب ہونے والے طلباء میں سندات تقسیم کی گئیں یہ نہ صرف پاکستان بلکه بیرون از پاکستان بھی ملازمت کے حصول میں محمد ہوں گی۔1-AM کے فائنل امتحان میں ۴۳ طلباء شامل ہوئے۔جن میں سے ۴۰ طلباء کامیاب قرار پائے۔یوں پہلی کلاس کا نتیجہ ۹۳% فیصد رہا۔