جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 265 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 265

265 66 پروفیسر یوسف رحیم صاحب چشتی مدیر رسالہ ”ندائے حق نے اپنے رسالہ کی اشاعت جولائی ، اگست ۱۹۵۹ء میں مقالہ اختتامیہ علمائے کرام کی خدمت میں“ کے عنوان سے شائع کیا۔جس میں وہ لکھتے ہیں:۔” یہ ایک نہایت تلخ اور بغایت المناک حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا کے کسی اسلامی ملک میں کوئی ایسا مدرسه یا ادارہ قائم نہیں ہے جہاں غیر مسلموں کو اسلام سے روشناس کرانے کے لئے نئے مبلغین تیار کئے جاتے ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانان عالم کے دفاع سے تبلیغ اور اشاعت اسلام کا خیال بالکل نکل چکا ہے۔“ انگلینڈ اور امریکہ میں آئے دن مذہبی مجالس منعقد ہوتی رہتی ہیں۔مگر ان جلسوں میں اسلام کی نمائندگی احمدی حضرات کرتے ہیں۔تبلیغ کی اشاعت سے آپ (علماء) کی بے اعتنائی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ آج بلادِ مغرب میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں تبلیغ کے میدان پر احمدی حضرات قابض ہیں۔یورپ اور امریکہ کے علاوہ ان کے مبلغین ان علاقوں اور جزیروں میں اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے ہیں جن کا نام بھی ہمارے عربی مدارس کے اکثر طلباء نے نہ سنا ہوگا۔مثلاً منجی ، ماریشس ،ٹرینیڈاڈ، سیرالیون اور نائیجیر یا وغیرہ۔میں نے بہت سے مسلمانوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آج اسلام کی تبلیغ ہی احمدی کر رہے ہیں۔ہمارے علماء تو اس طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے۔انگلستان میں آکسفورڈ ، کیمرج اور دوسری درس گاہوں میں جو مسلمان تعلیم حاصل حاصل کر رہے ہیں وہ انہیں احمدی مبلغین کو اپنے جلسوں میں اسلام پر تقریریں کرنے کے لئے مدعو کرتے رہتے ہیں۔اور اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمان ان کو اسلام کا خادم اور نمائندہ یقین کرتے ہیں۔اور ان کی خدمات کے معترف رہتے ہیں۔“ مولانا ظفر علی خاں صاحب ایڈیٹر زمیندار اخبار۔باوجود یکہ معاند احمدیت تھے۔اس کے باوجود انہوں نے ۱۳ مارچ ۱۹۳۶ء کو مسجد خیر الدین امرتسر میں تقریر میں کہا:۔احرار یو! کان کھول کر سنو! تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن ہے قرآن کا علم ہے۔تمہارے پاس کیا خاک دھرا ہے۔تم میں بھلا ہے کوئی جو قرآن کے سادہ حروف بھی پڑھ سکے۔تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔مرزا محمود کے ساتھ ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے ایک اشارے پر اس کے پاؤں میں نچھاور کرنے کو تیار ہے۔مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔مختلف علوم کے ماہر ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے۔“ ایک خوفناک سازش ۱۹۶ مصنفہ مولوی مظہر علی اظہر )