جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 266
266 پہلے تو صرف قادیان بھارت اور ربوہ پاکستان میں ہی جامعہ احمدیہ کے ادارے تھے جہاں جماعت کے مبلغین تیار کئے جاتے تھے۔ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے پیشتر بیرون ہندوستان واقفین جامعہ احمدیہ سے تعلیم کے حصول کے لئے قادیان آیا کرتے تھے۔مگر پارٹیشن کے بعد غیر ملکی طلباء جامعہ احمد یہ ربوہ پاکستان میں آیا کرتے تھے۔لیکن ۱۹۸۴ء میں اینٹی احمد یہ آرڈینینس کے بعد پاکستان کی حکومت نے جامعہ احمد یہ ربوہ سے تعلیم کے حصول کے لئے پاکستان آنے والے احمدی طلباء کو ویزے دینے سے انکار کر دیا۔جس کے بعد غیر ممالک سے جامعہ احمد یہ ربوہ میں تعلیم کے حصول کے لئے آنے والے طلباء کا سلسلہ بند ہو گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا چونکہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ سے وعدہ تھا کہ:۔د میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کے مطابق اب درج ذیل متعدد ممالک میں جامعہ احمدیہ قائم کرنے کے سامان پیدا فرما دیئے ہیں۔اور مخالفین و معاندین احمدیت کے سارے ارادے خاک میں ملا دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان تمام جامعات میں تادم تحریر تعلیم حاصل کرنے والے واقفین کی تعداد ۲ ہزار سے کچھ زائد ہو چکی ہے۔اور جامعہ احمدیہ کینیڈا سے امسال تیار ہونے والے۱۳ مربیان کا پہلا گروپ فارغ التحصیل ہو کر میدان عمل میں قدم رکھ چکا ہے۔الحمد للہ علی ذلک نمبر شمار نام کوائف جامعات شهر تاریخ تاسیس مدت کورس | تعداد طلباء جامعہ احمدیہ قادیان قادیان ١٩٠٦ء سات سالہ ۳۰۰ جامعہ احمدیہ (سینئر سیکشن پاکستان ربوه ١٩٤٧ء پانچ سالہ جامعہ احمدیہ (جونیئر سیکشن) پاکستان ربوہ جامعہ احمدیہ غانا ۴ جامعہ احمدیہ انڈونیشیاء جامعہ احمدیہ نائیجیریا ستمبر ۲۰۰۱ء دوساله 227 ۴۰۸ اکرافو ١٩٦٦ء تین ساله ۱۰۳ جکارتہ ١٩٧٣ء تین ساله اے الارو ۱۹۷۴ء چارسالہ جامعہ احمدیہ تنزانیہ موروگورو ۱۹۸۴ء چار سالہ ۵۹ ۴۵