جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 264
264 ایک مستقل مدرسہ کی صورت میں قائم کر دی گئی جسے مدرسہ احمدیہ کہا جانے لگا اور یہی وہ درس گاہ ہے جو مختلف مراحل میں سے گزرتے ہوئے ۱۹۵۷ء سے جامعہ احمدیہ کی صورت میں قائم ہے۔اس درس گاہ میں قرآن شریف،حدیث ، فقہ، بنیادی سائنس، کلام، تاریخ اسلام ، تاریخ احمدیت ، موازنہ مذاہب عالم اور مختلف زبانوں انگریزی، عربی، اردو بعض غیر ملکی زبانوں کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔اس درسگاہ کا سرکاری محکمہ تعلیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک خالص قومی درس گاہ ہے جس کی غرض و غایت دین کے عالم اور دین کے مربی پیدا کرنا ہے۔علمی اور ذہنی اور روحانی تعلیم کے ساتھ ساتھ العقل الصحيح في الجسم الصحیح کے پیش نظر جسمانی تربیت بھی دی جاتی ہے اور اس کے لئے با قاعدہ وقت مقرر ہے جس میں پی۔ٹی کے علاوہ مختلف کھیلیں کھیلی جاتی ہیں۔جن میں بیڈمنٹن ، فٹ بال، والی بال، رنگ اور ایتھلیٹکس وغیرہ شامل ہیں۔ان ڈور گیمز میں ٹیبل ٹینس اور کیرم بورڈ کا انتظام بھی ہوٹل میں موجود ہے۔جامعہ احمدیہ سے سینکڑوں کی تعداد میں تعلیم یافتہ مربیان و مبلغین جماعت کے ہر شعبہ میں خدمت بجالا رہے ہیں۔اور قربانی کی ایسی مثالیں قائم کر رہے ہیں جو تاریخ احمدیت کا ایک سنہری باب ہے۔یہ ادارہ خدا کے فضل سے اس منشاء اللہ کوعملی جامہ پہنانے میں دن رات مصروف عمل ہے:۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَامُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔(آل عمران) یعنی تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جو خیر کی طرف دعوت دینے والی ہو۔اور نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی تلقین کرنے والی ہو۔جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل مربیان نے جو خدمت دین حق کی اعلی مثالیں قائم کی ہیں ان میں سے صرف چند جھلکیاں نقل کر رہے ہیں:۔انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا میں لکھا ہے:۔جماعت کا وسیع تبلیغی نظام ہے۔نہ صرف ہندوستان میں بلکہ مغربی افریقہ، ماریشس اور جاوا میں بھی اس کے علاوہ برلن، شکاگو اور لنڈن میں بھی ان کے تبلیغی مشن قائم ہیں۔ان کے مبلغین نے خاص کوشش کی ہے کہ یورپ کے لوگ اسلام قبول کریں۔اور اس میں ان کو معتد بہ کامیابی بھی ہوئی ہے۔ان کے لٹریچر میں اسلام اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ جونو تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے باعث ش ہے اور اس طریق پر نہ صرف غیر مسلم ہی ان کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔بلکہ ان مسلمانوں کے لئے بھی یہ تعلیمات کشش کا باعث ہیں جو مذہب سے بے گانہ ہیں یا عقلیات کی رو میں بہہ گئے ہیں۔ان کے مبلغین ان حملوں کے دفاع بھی کرتے ہیں جو عیسائی مناظرین نے اسلام پر کئے ہیں۔“ (انسائیکلو پیڈیا آف برٹینی کا مطبوعہ ۱۹۵۱ء ص ۷۱۱ - ۷۱۲ )