جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 172
172 منتخب ہونے تک اس عہدہ پر فائز رہے۔آپ کی اولا د چار بیٹیاں ہیں۔خلافت رابعہ کے شیریں ثمرات خلافت رابعہ کا دور روز اول سے ہی ایک عظیم الشان انقلاب انگیز دور ثابت ہوا اور اس دور کا عنوان ”دعوت الی اللہ تھا۔آپ نے ”بیوت الحمد ربوہ “ اور ”دار الیتامی پاکستان اور بیرون پاکستان بنوانے کا شاندار منصوبہ تیار کیا۔علاوہ ازیں حضور کی طرف سے متعدد تحریکیں وقتاً فوقتاً ہوتی رہیں اور خدائی تائیدات اور نصرت الہی کے شاندار مظاہر اہل دنیا کی نظروں کے سامنے آتے رہے۔جماعت کے خلاف بڑھتی ہوئی پابندیاں دراصل اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہم اپنی منزل کی طرف زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔علمی خدمات حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی ذات والا صفات ظاہری اور باطنی علوم کا سمندر تھی آپ کو حصول علم کا بے پناہ شوق تھا۔جدید ترین سائنسی علوم کے متعلق آپ کی معلومات حیرت انگیز تھیں اور آپ قرآن کریم کی روشنی میں ان علوم کا محاکمہ کرنے پر قادر تھے۔دنیا اور خصوصاً جماعت کو ان علوم سے بہرہ ور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو تقریر اور تحریر کا بادشاہ بنایا تھا۔آپ ایک قادر الکلام شاعر اور ادیب سحر طراز مقرر اور خطیب تھے۔آپ کے ایک ہزار کے قریب خطبات جمعہ ریکارڈڈ ہیں۔ان میں سے اکثر سلسلہ وار مضامین پر مشتمل ہیں اور اسلامی علوم کا بے پناہ خزانہ ہیں۔ان علوم کی دوسری نہر مجالس عرفان کے ذریعہ جاری ہوئی۔یہ ہزار ہا مجالس اردو اور انگریزی میں ہیں۔جن کے تراجم کئی زبانوں میں رواں نشر ہوتے رہے۔لقاء مع العرب پروگرام ۴۰۰ گھنٹوں پر مشتمل ہے۔اردو کلاس، چلڈرن کلاس، اطفال، لجنہ ، جرمن، بنگلہ احباب سے ملاقات کے سینکڑوں پروگراموں نے ان علوم کو سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔آپ نے سینکڑوں تحریری پیغامات دیئے۔سینکڑوں خطوط اپنے ہاتھ سے لکھے۔ہر پیغام اور خط ادب کا بھی ایک شہ پارہ ہے اور ایک بلند پایہ ادیب لفظ لفظ جلوہ نمائی کرتا ہے۔دنیا کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی مسائل پر آپ کی بے مثال رہنمائی نے آپ کی ذات اور جماعت کو دنیا بھر میں ایک نئی عزت اور وقار عطا کیا۔