جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 171
171 خلافت رابعه حضرت خلیفہ امیج انالسٹ کی وفات کے بعدہ اجون ۱۹۸۲ء کوحضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب بطور خلیفہ اسح الرابع منصب خلافت پر فائز ہوئے۔حضرت خلیفة مسح الرابع کا ظہور بھی الہی بشارتوں کے تحت ہوا۔چنانچہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے ایک موقع پر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکشاف کیا ہے کہ:۔”خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور میں پھر کسی شرک کے زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے آؤں گا جس کے معنے یہ ہیں کہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اور شخص پر جو میرے جیسی طاقتیں رکھتا ہوگا نازل ہوگی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا“۔حضرت خلیلی امسیح الرابع سے مختصر حالات زندگی کے (الفضل ۱۹ فروری ۱۹۵۶ء) حضرت خلیفۃ امسیح الرابع حضرت مصلح موعود کے فرزند تھے۔آپ ۱۸دسمبر ۱۹۲۸ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۴ء کو میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اسی سال آپ کی والدہ محترمہ حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ جو خاندان سادات میں سے تھیں وفات پاگئیں۔گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی اور پھر پرائیویٹ طور پر بی اے پاس کیا۔۱۹۴۹ء میں جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور ۱۹۵۳ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۵۵ء میں حضرت مصلح موعود کے ہمراہ یورپ تشریف لے گئے۔اور لندن کے سکول آف اور مینگل سٹڈیز میں تعلیم حاصل کی۔جہاں سے اکتوبر ۱۹۵۷ء میں واپس آئے اور پھر دینی خدمات میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔۱۹۵۹ء میں آپ کی شادی محترمہ سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ بنت مرزا رشید احمد صاحب کے ساتھ ہوئی۔نومبر ۱۹۵۸ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو وقف جدید کی تنظیم کا ناظم ارشاد مقرر فرمایا۔آپ نے بیحد محنت کی جس کے نتیجے میں اس تنظیم نے تیز رفتاری سے ترقی کی۔نومبر ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۶ء تک آپ نائب صدر مجلس خدام الاحمد ی ر ہے۔۱۹۶۰ء کے جلسہ سالانہ پر پہلی مرتبہ خطاب فرمایا اور اس کے بعد تاحیات خطاب فرماتے رہے۔۱۹۶۱ء میں افتاء کمیٹی کے ممبر مقرر ہوئے۔۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۹ء تک صدر مجلس خدام الاحمدیہ رہے۔۱۹۷۰ء میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت کا مؤقف بتانے والی ٹیم کے ممبر تھے۔۱۹۷۹ء میں آپ صدر مجلس انصاراللہ مقرر ہوئے۔خلیفہ