جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 173
173 ربوہ اور لندن کے جلسہ ہائے سالانہ کے علاوہ جرمنی، کینیڈا اور امریکہ سمیت درجنوں ممالک کے سالانہ جلسوں پر آپ کے طویل مگر سحر انگیز خطابات آپ کے بے مثال اور نا قابل فراموش تھے ہیں۔آپ کی شاعری سچائی کے ساتھ عشق الہی اور محبت رسول میں گوندھی ہوئی ہے۔دلوں میں کھب جانے والی اور سینوں میں گھر کرنے والی جس کے بعض شعروں پر غیر بھی سر دھنتے ہیں۔آپ کے درس القرآن اور قرآن کلاسز علوم قرآنی کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی تالیفات حسب ذیل ہیں :۔ا۔مذہب کے نام پر خون ۱۹۶۲ء۔۲۔ورزش کے زینے ، ۱۹۶۵ء۔۳۔احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ، ۱۹۶۸ء۔۴۔آیت خاتم النبین کا مفہوم اور جماعت احمدیہ کا مسلک ، ۱۹۶۸ء۔۵۔سوانح فضل عمر حصہ اول، ۱۹۷۵ء۔۶۔سوانح فضل عمر حصہ دوم ۱۹۷۵ء۔۷۔ربوہ سے تل ابیب تک ،۱۹۷۶ء۔۸۔وصال ابن مریم ، ۱۹۷۹ء۔۹۔اہل آسٹریلیا سے خطاب اردو اور انگریزی ۱۹۸۳ء۔۱۰۔مجالس عرفان ۸۴-۱۹۸۳ء کراچی، ۱۹۸۹ء۔اا۔سلمان رشدی کی کتاب پر محققانہ تبصرہ ، ۱۹۸۹ء۔۱۲ حیج کا بحران اور نظام جہان نو، ۱۹۹۲ء۔۱۳-Islam's Response to Contemporary Issues ۱۹۹۲ء۔۱۴۔ذوق عبادت اور آداب دعا ۱۹۹۳ء۔۱۵- Christianity A Journey from Facts to Fiction ۱۹۹۴ء۔۱۶۔زھق الباطل ۱۹۹۴ء۔۱۷۔کلام طاہر (کراچی)، ۱۹۹۵ء۔۱۸۔حوا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ (کراچی)، ۱۹۹۵ء۔۱۹۔Revelation, Rationality, Knowledge and Truth ، ۱۹۹۸ ء۔۲۰۔قرآن کریم کا اردوترجمہ،۲۰۰۰ء۔۲۱۔بیشمار خطبات ولیکچرز سب سے بڑا کارنامہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ جماعت کی عالمی وحدت اور منصب خلافت کا استحکام تھا۔آپ نے ہر فتنے کو کچلا ، ہر وسو سے کی بیخ کنی کی ہر رنگ میں اس مضمون کو اس طرح کھولا کہ دنیا کی سازشوں کے باوجود آپ نے اپنی امانت نہایت شاندار طریق سے اگلے خلیفہ کے سپر د کر دی۔استفاده از الفضل انٹر نیشنل ۸ تا ۴ ار ا گست ۲۰۰۳ مضمون مولانا عبدالسمیع خان صاحب و احمدیت کی مختصر تاریخ مرتبہ مکرم شیخ خورشید احمد صاحب)