جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 166 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 166

166 دور خلافت ثالثہ میں ترقیات کی چند جھلکیاں ۷ دسمبر ۱۹۶۵ء کو حضور نے تحریک فرمائی کہ کوئی احمدی رات کو بھوکا نہ سوئے اور امراء جماعت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء کو حضور نے خدام کو ماٹو دیا ” تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں۔۲۱ دسمبر ۱۹۶۵ء کو فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک کا اعلان فرمایا۔جماعت سے ۲۵لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔اسی جلسہ پر حضور نے وقف بعد ریٹا رمنٹ کی تحریک بھی فرمائی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پیشگوئی کے مطابق گیمبیا کے سرایف ایم سنگھاٹے نے اسی سال حضور سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا کپڑا اطلب کیا جو انہیں بھجوایا گیا۔۴ فروری ۱۹۶۶ء کوتحریک تعلیم القرآن کا اعلان فرمایا۔۱۸ مارچ ۱۹۶۷ء کو تحر یک وقف عارضی کا اعلان۔۲۲۶ را پریل ۱۹۶۶ء کو تحریک جدید کے دفتر سوم کے اجراء کا اعلان حضور نے فرمایا کہ یہ دفتر یکم نومبر ۱۹۶۵ء سے جاری شدہ سمجھا جائے گا تا کہ حضرت مصلح موعود کے دور کی طرف منسوب ہو۔4 مئی ۱۹۶۶ء کو ڈنمارک میں جماعت احمدیہ کی پہلی البیت‘ کا سنگ بنیاد کو پن ہیگن میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے رکھا۔خدا کا یہ گھر صرف احمدی مستورات کے چندہ سے تعمیر ہوا۔9 ستمبر ۱۹۶۶ء کو بدرسوم کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا۔۷ اکتو بر ۱۹۶۶ء کو وقف جدید دفتر اطفال کا قیام عمل میں آیا۔۱۳ را کتوبر ۱۹۶۶ءکودفاتر صدرانجمن احمدیہ کے نئے بلاک کی بنیا درکھی۔۲۸ اکتوبر ۱۹۶۶ ء کو البیت الاقصیٰ کا سنگ بنیا درکھا۔جنوری ۱۹۶۷ء کو اسلامی اصول کی فلاسفی کا انگریزی ترجمہ ایک لاکھ کی تعداد میں شائع ہوا۔را پریل ۱۹۶۷ء کو فضل عمر فاؤنڈیشن نے علمی تصانیف پر ۵ ہزار روپے کے انعامات دینے کا اعلان کیا۔۸ تا ۱۰ جولائی ۱۹۶۷ء کو دورہ یورپ (مغربی جرمنی۔۱۱ تا ۱۴ جولائی سوئٹزر لینڈ۔۱۴ تا ۱۶ جولائی ہالینڈ۔۱۶ تا ۲۰ جولائی مغربی جرمنی۔۲۱ تا ۲۶ جولائی ڈنمارک۔۲۱ جولائی بیت النصرت کو پن ہیگن (ڈنمارک) کا افتتاح - ۲۸ جولائی وانڈ زورتھ ٹاؤن ہال لندن میں حضور کا خطاب بعنوان ”امن کا پیغام اور ایک انتباہ۔) ۱۹۶۷ء میں حضور نے اپنا یہ الہام بیان فرمایا ” میں تینوں ایناں دیاں گا کہ تورج جاویں گا“۔