جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 165 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 165

165 خلافت ثالثہ کے شیریں ثمرات خلافت ثالثہ کا بابرکت عہد سترہ سال تک رہا۔اس سترہ سالہ دور میں بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے کئی نشان ہم دیکھ چکے ہیں جو اس خلافت میں جاری ہونے والی بابرکت تحریکوں کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی وفات پر جماعت کے تمام افراد جس طرح خلافت ثالثہ کے ذریعے ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے وہ احمدیت کی صداقت اور خلافت احمدیہ کی سچائی کا ایک نشان ہے۔آپ نے جماعت کو یہ عظیم ماٹو دیا:۔"Love For All Hatered For None" آپ نے براعظم افریقہ، یورپ اور امریکہ کے کئی کامیاب دورے کئے۔براعظم افریقہ میں احمدیت کا پیغام جس شان سے آپ کے بابرکت دور میں پھیلا وہ ایک عظیم درخشندہ باب ہے۔خدا تعالیٰ کے اذن سے جاری کردہ نصرت جہاں سکیم بہت ہی بابرکت ثابت ہوئی۔سینکڑوں بیوت الذکر تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم ہوئے اور ان میں احمدی مبلغین ، اساتذہ اور ڈاکٹر ز نے عظیم الشان خدمات سرانجام دیں۔حضور کی وفات ماہ جون ۱۹۸۲ء کے ابتدائی ایام میں جبکہ حضور اسلام آباد میں مقیم تھے۔حضور کو اچا نک دل کے عارضہ کا شدید حملہ ہوا ہرممکن علاج کیا گیا لیکن خدا کی مشیت غالب آئی اور حضور ۹ جون ۱۹۸۲ء کی رات کو ۳ ۷ برس کی عمر میں اسلام آباد، پاکستان میں انتقال فرما کر محبوب حقیقی سے جاملے۔اناللہ وانا الیہ راجعون آپ کا جنازہ اسلام آباد سے ربوہ لایا گیا جہاں پر ۱۰ جون ۱۹۸۲ء کو حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں پاکستان اور بیرون ممالک سے آئے ہوئے ہزار ہا احباب شامل ہوئے۔نماز جنازہ کے بعد آپ کا جسد عصری مقبرہ بہشتی ربوہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے مزار کے پہلو میں سپردخاک کر دیا گیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کی اچانک وفات کا المناک سانحہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک بہت بڑا غیر معمولی صدمہ تھا۔مگر جماعت نے دینی تعلیم کے مطابق اسے نہایت صبر کے ساتھ برداشت کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے اتحاد و اتفاق کو قائم رکھا اور حضرت خلیفتہ اسیح الرابع کے وجود میں قدرت ثانیہ کا چوتھا مظہر عطا کر کے اپنے وعدہ کے مطابق جماعت کے خوف کو امن و سکینت میں بدل دیا۔الحمد للہ علی ذلک حسن و جمال کے پیکر اور مسکراہٹوں کے اس سفیر کے بابرکت دور خلافت میں ہونے والی ترقیات اور آپ کے عظیم کارناموں کی چند جھلکیاں پیش ہیں۔