جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 113 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 113

113 ثابت ہوئی اور ان کو اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی کیونکہ اللہ تعالی کی تائید ان کے ساتھ نہ تھی اور وہ اصل حقیقت کو جانتے بوجھتے ہوئے اس کو چھپا رہے تھے۔پس جماعت احمدیہ اور لاہوری احمد یوں میں عقائد کے لحاظ سے دوسرا اختلافی مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منصب نبوت پر فائز ہونایا نہ ہونا ہے۔۳۔تیسرا اختلاف: جماعت احمدیہ اور لاہوری احمدیوں کے درمیان تیسرا اختلافی مسئلہ یہ ہے کہ لاہوری احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانا یا آپ کی بیعت کرنا ضروری نہیں سمجھتے اور اس عقیدہ کے اختیار کرنے کی وجہ بھی صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام نبوت سے انکار ہی تھی۔کیونکہ قرآن کریم اور احادیث کی رو سے صرف نبی پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری ہے۔نبی کے علاوہ کسی بھی روحانی منصب پر فائز شخص پر نجات کے لئے ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔لہذا چونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام نبوت سے انکار کیا تھا اس لئے مسئلہ کفر و اسلام میں بھی تبدیلی کرنا ان کے لئے ضروری ہو گیا۔اس کے برعکس جماعت احمد یہ چونکہ مسیح موعود کے مقام نبوت کو مانتی اور تسلیم کرتی ہے اس لئے قرآن کریم اور احادیث کی رو سے نجات کے لئے ان پر ایمان لانا ضروری سمجھتی ہے۔کیونکہ ان کا دعویٰ ایک امتی نبی کا تھا نہ کہ محض ایک امام مہدی یا مجد دوقت کا۔جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود اپنی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ میں اپنے دعویٰ نبوت کی نوعیت کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔اور اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہوسکتا تو پھر اس کے کیا معنی ہیں کہ اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم - سویا درکھنا چاہئے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے۔تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اس لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نا با سے مشتق ہے جس کے یہ معنی ہیں۔خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا۔اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیرھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔اور جب کہ خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے