جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 112 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 112

112 ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانیہ کے انتظار میں اکھٹے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آ جائے گی۔“ (رساله الوصیت روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰ ص ۲۰۴ تا ۲۰۸) ۲۔دوسرا اختلاف:۔لا ہوری جماعت اور جماعت احمد یہ عالمگیر میں یہ ہے کہ لاہوری احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف مجدد، امام مہدی اور مسیح موعود تسلیم کرتے ہیں مگر آپ کے منصب نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔حالانکہ خلافت ثانیہ کے قیام تک لاہوری جماعت سے تعلق رکھنے والے تمام علماء و سکالرز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امتی نبی تسلیم کرتے تھے۔جماعتی اخبارات و رسائل اور لٹریچر میں مذکورہ بالا لاہوری عمائدین کی ایسی تحریرات موجود ہیں جن میں انہوں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منصب نبوت کو تسلیم کیا ہوا ہے۔لیکن جونہی ان لوگوں نے نظام خلافت سے علیحدگی اختیار کی اور لاہور میں اپنی ایک الگ جماعت کی بنیاد رکھی تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نبوت کے مقام پر فائز ہونے سے انحراف اختیار کر لیا اور اسی طرح منصب نبوت تسلیم کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے دیگر مسائل میں بھی تبدیلی پیدا کر لی جن کا آگے ذکر آئے گا۔حضرت مسیح موعود کے منصب نبوت سے انکار میں حکمت :۔حضرت مسیح موعود کے منصب نبوت پر فائز ہونے کے عقیدہ سے انکار میں حکمت دراصل یہ تھی کہ امت مسلمہ کی ایک بھاری تعداد حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو چودھویں صدی کا مجدد اور امام مہدی تسلیم کرنے کیلئے تو تیار تھی مگر آپ کے منصب نبوت کو ماننے کے لئے یا اس کو سمجھنے کے لئے تیار نہ تھی۔تو ان لا ہوری احمدیوں نے اس صورتحال کے پیش نظر اپنے اس عقیدہ میں تبدیلی کر لی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام امتی نبی ہیں۔تا کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف مجدد اور امام مہدی تسلیم کرتے ہیں وہ سب ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور اس طرح ہماری اقلیت اکثریت میں بدل جائے گی۔حالانکہ ان کی یہ سوچ محض ایک خام خیالی