جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 114 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 114

114 ہیں۔تو میں کیونکر رد کروں یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کر ن لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے۔اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے۔اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا مجھ سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی یہ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ“ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفے ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی ہے اور آسمان نے بھی۔اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفہ اللہ ہوں۔مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔کوئی نہیں جو میرے مقابل پر ٹھہر سکے۔کیونکہ خدا کی تائید ان کے ساتھ نہیں۔اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سواب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول د من نیستم رسُول و نیاورده ام کتاب اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ سے پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفے ہی ہے۔اس واسط کوملحوظ رکھ کر اور اس میں ہوکر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔اور اس طور سے خاتم النبین کی مہر محفوظ رہی۔کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔اگر کوئی شخص اس وحی الہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اسکی حماقت ہے۔کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ ص ۱۰۹ تا ۱۱۱)