جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 101
101 قُولُوا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔(در منثور جلد ۵ ص ۱۰۴) خاتم النبیین تو کہومگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔دوسری جگہ یہ روایت اس طرح نقل کی گئی ہے:۔قُولُو إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔(تکمله مجمع البحار جلد ۴ ص ۸۵) اے لوگو! آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین تو کہو مگر یہ نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔حضرت عائشہ کے نزدیک ختم نبوت سے یہی مراد تھی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نئی شریعت والا یا مستقل نبوت والا نبی نہیں ہو سکتا۔ہاں مگر ایسا نبی ہو سکتا ہے جس کا امکان سورۃ نساء میں موجود ہے۔اسی لئے مطلقاً لا نَبيَّ بَعْدَہ کہنے سے روک دیا۔حضرت محی الدین ابن عربی کا ارشاد ہے:۔إِنَّ النَّبوَّةَ الَّتِي اِنْقَطَعَتْ بِوُجُودِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ نُبُوَّةُ التشريع لَا مُقَامُهَا فَلَا شَرُعَ يَكُونُ نَاسِخًا لِشَرْعِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَلَا يَزِيدُ فِي حُكْمِهِ وَهذَا مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنَّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَلاَ رَسُوْلَ بَعْدِى وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرْعِى بَل إِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكْمِ شَرِيعَتِي (فتوحات مکیه جلد ۲ ص ۹۳) ترجمہ:۔وہ نبوت جو آنحضرت علی ہے کے وجود باجود پر منقطع ہوئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے۔مقام نبوت بند نہیں ہوا۔اب کوئی شریعت نہ ہوگی جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔یا آپ کی شریعت میں کسی حکم کا اضافہ کرے اور یہی معنی ہیں آنحضرت علیہ کے اس قول کے کہ اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ ایسا کوئی نبی نہیں ہوگا۔جو میری شریعت رکھتا ہو۔بلکہ جب بھی کوئی نبی ہوگا۔تو میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہوگا۔أَمَّا الْحَدِيثُ لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِى بِاطِلٌ وَلَا أَصْلَ لَهُ۔نَعَمُ وَرَدَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَمَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ وَلَا يَحُدُثُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ يَنسَخُ شَرُعَهُ۔66 الاشاعة في اشراط الساعة ص ٢٢٦) 66 یعنی حديث لا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِى باطل اور بے اصل ہے۔ہاں حدیث میں لانبی بعدی “ وارد ہے اور اس کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آئندہ کوئی ایسا نبی پیدا نہیں ہوگا جو ایسی شریعت لے کر آئے جو