جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 102
102 آنحضرت ﷺ کی شریعت کو منسوخ کرے۔ایسا ہی حضرت امام عبدالوہاب شعرانی کا ارشاد ہے:۔اعْلَمُ أَنَّ النبوَّةَ لَم ترتَفِعُ مُطْلِقًا بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَإِنَّمَا اَرْتَفَعَتْ نُبُوَّةُ التَّشْرِيعِ فَقَط۔(اليواقيت والجواهر جلد ۲ ص ۳۵) یعنی جان لو کہ مطلق نبوت بند نہیں ہوئی صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے۔نیز فرمایا:۔فَقَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَبِيَّ بَعْدِى وَلَا رَسُولَ بَعْدِى أَيْ مَاثَمَّ مَنْ يُشَـ بَعْدِي شَرِيعَةً خَاصَّةً۔(اليواقيت والجواهر جلد دوم ص ۳۵) یعنی آنحضرت ﷺ کے قول "لا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُول“ سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص شریعت خاصہ کے ساتھ تشریعی نبی نہیں ہوگا۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں:۔خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ اى لا يُوجَدُ بَعْدَهُ مَنْ يَّامُرُهُ اللهُ سُبْحَانَهُ بِالتَّشْرِيع عَلَى النَّاسِ۔(تَفْهِيمَات ص ۵۳) ترجمہ: (آنحضرت ) پر نبی ختم ہو گئے۔یعنی اب اللہ تعالیٰ کسی کو نئی شریعت کے ساتھ مامور نہیں کرے گا۔“ لائے گا۔“ نواب نور الحسن خان صاحب جو نواب صدیق حسن خان صاحب کے بیٹے ہیں۔فرماتے ہیں:۔ہاں لَا نَبِيَّ بَعْدِی آیا ہے۔جس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی شرع ناسخ نہ (اقتراب الساعة ص ١٦٢) ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ ختم نبوت سے مراد کوئی نئی شریعت لانے والا یا کوئی مستقل نبی نہیں ہوسکتا۔ہاں ایسا نبی ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی امت سے ہو اور آپ کی اتباع کے نتیجہ میں مقام نبوت حاصل کرے۔پس حضرت مرزا صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کے دعویٰ نبوت سے مراد صرف اسی قدر ہے کہ آپ کو یہ مقام اور منصب آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا ہونے کے نتیجہ میں ملا ہے۔اور ایسا ہونا نا جائز نہیں جیسا کہ قرآن وحدیث اور بزرگان امت کے اقوال سے ثابت کیا جا چکا ہے۔