جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 100 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 100

100 وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًاه ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَ كَفَى بِاللَّهِ عَلَيْمًاه (نساء : رکوع 9) ترجمہ:۔جولوگ اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں۔صدیقوں ، شہداء اور صالحین میں اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔یہ فضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ بہت جاننے والا ہے۔استدلال :۔اس آیت میں آئندہ نبی، صدیق، شہید اور صالح بننے کے لئے اللہ اور آنحضرت علی کی اطاعت کو لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ،صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کی چاروں نعمتیں آپ کی اطاعت سے وابستہ ہیں۔اور نبی ،صدیق، شہید اور صالح بننے کے لئے آپ کی اطاعت شرط ہے۔ختم نبوت سے مراد بھی یہی ہے کہ نبوت کے تمام کمالات آنحضرت مے پر ختم ہو گئے ہیں اور اب آپ کی اتباع اور پیروی کے بغیر براہ راست آئندہ کوئی نبوت کا مقام نہیں پاسکتا۔احادیث: آنحضرت ﷺ نے اپنے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر نزول آیت خاتم النبین کے ۵ سال بعد فر مایا:۔لَوْعَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نِبِيّاً۔(ابن ماجه ص ۱۱۰) اگر ابراہیم زندہ رہتے تو ضرور نبی ہوتے۔ایک دسری حدیث میں لکھا ہے:۔أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيِّ۔(كنوز الحقائق في۔ديث خير الخلائق ص ٦/٢) ابوبکر اس امت میں سب سے افضل ہیں بجز اس کے کہ کوئی نبی امت میں پیدا ہو۔اس حدیث کو علامہ جلال الدین سیوطی الجامع الصغیر میں نقل کرتے ہیں:۔أَبُو بَكْرِ خَيْرُ النَّاسِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيِّ۔(الجامع الصغير السيوطى ص ۵) ابوبکر سب سے بہتر ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی پیدا ہو۔اقوال بزرگان امت:۔حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:۔