جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 93 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 93

93 کے مہینہ میں چاند کو اس کی پہلی رات میں اور سورج کو اس کے درمیانی دن میں گرہن لگے گا۔اور یہ دونوں نشانات جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں کسی کی صداقت کے لئے ظاہر نہیں ہوئے۔قرآن کریم میں بھی ان دونوں نشانوں کا ذکر ملتا ہے۔فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُه وَ خَسَفَ الْقَمَرُه وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُه (سورة القيامة : ۸ تا ۱۰) یعنی جس وقت آنکھیں پتھرا جائیں گی اور چاند گرہن ہوگا۔اور سورج اور چاندا کٹھے کئے جائیں گے۔یعنی سورج کو بھی گرہن لگے گا۔انجیل میں بھی ذکر ہے کہ جب مسیح علیہ السلام کی دوبارہ آمد ہوگی تو اس کی صداقت کے لئے سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔چنانچہ لکھا ہے:۔بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گ جیسے بجلی پورب سے گوند کر پچھتم تک دکھائی دیتی ہے۔ویسے ہی ابن مریم کا آنا ہوگا۔فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند روشنی نہ دے گا۔۔۔۔۔اور متی باب ۲۴ نیا عہد نامہ ص۳۴-۳۵۔۱۹۰۸ء) کئی مسلمان علماء اور بزرگوں نے اپنی کتب میں اس حدیث کا ذکر کیا ہے: علامہ بیہقی نے اپنی کتاب ”سنن بیہی ، میں۔علامہ ابن حجر مکی نے اپنی کتاب ” فتاوی حدیثیہ ہیں۔نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب ” حج الکرامہ میں شاہ رفیع الدین صاحب نے اپنی کتاب ” قیامت نامہ اور علامات قیامت میں۔حضرت مجددالف ثانی نے اپنی کتاب ” مکتوبات امام ربانی میں۔حافظ محمد لکھو کے صاحب نے اپنی کتاب احوال الآخرت میں۔مولوی محمد رمضان صاحب نے اپنی کتاب ”آخری گت میں۔نعمت اللہ شاہ ولی نے اپنی کتاب ”اربعین میں یہ حدیث بیان کی ہے۔ملتان کے بزرگ عبدالعزیز پہاروی صاحب نے تو سال کا بھی تعین کر دیا ہے کہ ۱۳۱۱ھ ہجری میں ہوگا۔اس حدیث میں درج ذیل چار شرائط بیان کی گئی ہیں جن کے مطابق ظاہر ہونے والا چاند اور