جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 94 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 94

94 سورج گرہن حضرت امام مہدی کی صداقت کا نشان ہوگا۔ا۔مذکورہ گرہن لگنے کے وقت امام مہدی موجود ہوگا۔۲۔یہ دونوں نشان ماہ رمضان میں ظاہر ہوں گے۔لگے گا۔۳۔چاند کو اس کی مقررہ گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ یعنی ۱۳ / تاریخ رات کو گرہن لگے گا۔۴۔سورج کو اس کی مقررہ گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ یعنی ۲۸ تاریخ دن کو گرہن یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کا ایک وقت میں جمع ہونا سوائے اللہ تعالیٰ کی خاص نقد میر اور تصرف کے ہرگز ممکن نہیں۔اس لئے ان تمام شرائط کے ساتھ چاند اور سورج کو گرہن لگنا امام مہدی کی صداقت کا قطعی ثبوت ہے۔چنانچہ چودہویں صدی ہجری کے اویں سال ۱۳۱۱ھ میں ان تمام شرائط کے ساتھ سورج اور چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا۔ا۔چاند گرہن ۱۳ / رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ عیسوی کیلنڈر کے مطابق ۲۱ / مارچ ۱۸۹۴ء کو ہوا۔۲۔سورج گرہن ۲۸ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ عیسوی کیلنڈر کے مطابق ۶ را پریل ۱۸۹۴ء کو ظاہر ہوا۔جب یہ دونوں نشان ظاہر ہوئے تو اس وقت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے سوا دنیا میں کوئی امام مہدی ہونے کا دعویدار موجود نہ تھا۔آپ نے اس نشان کو اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔آپ نے فرمایا:۔یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا علم فلکیات کے ماہرین نے چاند سورج گرہن کے ۱۰۰ سالہ ریکارڈ پر مشتمل امریکہ اور یورپ سے جو کتابیں شائع کی ہیں ان میں ۱۸۹۴ء بمطابق ۱۳۱۱ھ کے اس عظیم الشان گرہن کا نہ صرف ذکر موجود ہے بلکہ انہوں نے نقشہ کے ذریعہ اس گرہن کے وسیع علاقوں کو بھی ظاہر کیا ہے۔اسی طرح اس زمانہ کے اخبارات نے بھی اس واقعہ اور نشان کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اپنے ۷ مارچ ۱۸۹۴ء کے پرچہ میں چاند گرہن کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح اخبار ” سراج الاخبار نے اار جون ۱۸۹۴ء کی اشاعت میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ۱۳ / رمضان المبارک کو چاند گرہن اور ۲۸ / رمضان کو سورج گرہن واقع ہوا ہے۔اس زمانہ کے بعض بڑے بڑے مسلمان علماء نے بھی اس نشان کے پورا ہونے کی گواہی دی۔چنانچہ