جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 92 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 92

92 یعنی آخری زمانہ میں مسیح ابن مریم کے نزول سے مراد اس کا کسی دوسرے بدن کے ساتھ ظہور ہے۔جماعت احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اور مثیل ابن مریم ایک ہی وجود کے دو صفاتی نام ہیں۔جیسا کہ ابن ماجہ کی اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔لَا الْمَهْدِى إِلَّا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ۔(ابن ماجه) یعنی عیسی بن مریم کے سوا کوئی مہدی نہیں۔رہا یہ سوال کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے امام مہدی ہونے کا کیا ثبوت ہے اس سلسلہ میں ان علامات اور نشانیوں کا جائزہ لینا ہو گا جو حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق آنحضرت نے بیان فرمائی ہیں۔ان تمام علامات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلی قسم ان روایات کی ہے جو امام مہدی کے ظہور سے پہلے پوری ہوئی تھیں۔اور دوسری قسم ان علامات کی ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی اپنی زندگی میں پوری ہونی تھیں یا آپ کی وفات کے بعد ظاہر ہونی تھیں۔جہاں تک ان علامات کا تعلق ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ظاہر ہونی تھیں ان کے پورا ہونے سے متعلق ہم جماعت احمدیہ کے قیام کا پس منظر کے باب میں کئی شہادتیں لکھ چکے ہیں۔لہذا دوبارہ ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔وہ علامات جن کا تعلق امام مہدی علیہ السلام کے دعویٰ کے بعد زمانہ سے ہے ان میں سے چند نشانات کا اس جگہ ذکر کر دیتے ہیں۔چاند اور سورج گرہن کا عظیم الشان نشان حضرت امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کے لئے ظاہر ہونے والے نشانات میں سے دو بہت عظیم الشان نشان ” سورج اور چاند گرہن کے ہیں۔جن کا ذکر قرآن و حدیث کے علاوہ دیگر مذاہب کی کتب میں بھی ملتا ہے۔جس حدیث میں ان دونوں نشانات کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس کے عربی الفاظ یہ ہیں:۔إِنَّ لِمَهْدِينَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْاَرِضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكِسَفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔(سنن دار قطنی جلد ۲ ص ۶۵ باب صفة صلواة الخسوف) ترجمہ:۔یعنی ہمارے مہدی کی صداقت کے لئے دو نشان ظاہر ہوں گے جب سے زمین و آسمان بنے یہ نشان کسی اور کے لئے ظاہر نہیں ہوئے۔ان نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان