جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 34
34 میں سے اکثر تعصب سے آلودہ تھیں اور آپ پر طرح طرح کے اعتراضات کئے جارہے تھے۔آپ نے تمام تاریخی حقائق کو اس خوبصورتی سے پیش کیا کہ، وہ تمام اعتراضات دھواں ہو کر اڑنے لگے۔اسی طرح جب آپ نے محسوس فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ ایک ایک کر کے اس عالم فانی سے رخصت ہورہے ہیں تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روایات جمع فرمائیں اور یہ روایات سیرت المہدی کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوئیں۔یہ کتاب آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک قیمتی خزانہ ہے۔تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ احباب جماعت سے ذاتی تعلقات رکھتے اور ان کی تربیت کے لئے اور ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے کوشاں رہتے۔باوجود تمام علم اور خدمت دین کے اور باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک موعود بیٹا ہونے کے آپ انکسار اور خلیفہ وقت کی اطاعت کا ایک نمونہ تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیماری کے ایام میں آپ کا مبارک وجود احمدیوں کے لئے ایک سہارا تھا۔اور حضور کی بیماری میں آپ کے فرائض میں پہلے سے بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔آپ نگران بورڈ کے صدر بھی تھے اور نگران بورڈ کے فیصلوں کے واجب العمل ہونے کے لئے ضروری تھا کہ آپ کی رائے اس فیصلے کے حق میں ہو۔اور جب بیماری کی وجہ سے حضور کے لئے مجلس مشاورت کی صدارت کر نا ممکن نہ رہا تو حضور کے حکم کے تحت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس ذمہ داری کو ادا فرماتے رہے۔خواہ جماعت میں کوئی تربیتی مسئلہ ہو یا بیرونی مخالفین کی ریشہ وانیوں کا سد باب کرنا ہو، آپ با وجود کمزوری صحت کے مستعدی سے ان فرائض کو ادا فرماتے۔آپ نے مورخہ ۲ ستمبر ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ عظیم مبشر فرزند اپنی تمام عمر خدمت سلسلہ میں گزار کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص میں تدفین ہوئی۔(استفاده از سلسلہ احمدیہ حصہ دوم ص ۵۹۵ تا ۵۹۷ مرتبہ ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب) حضرت مرزا شریف احمد صاحب الہی منشاء کے مطابق جب حضرت مسیح موعود کی شادی حضرت اماں جان سے ہوئی تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شادی سے ہونے والی اولاد کے متعلق اور بالخصوص ایک عظیم الشان فرزند کی بابت عظیم الشان خوشخبریاں عطا کی گئی تھیں۔اس مبارک شادی کے ہونے والے ہر بچے کی پیدائش سے قبل اس کی بابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہامات سے نوازا گیا تھا۔ان مبارک وجودوں میں سے ایک حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا وجود بھی تھا۔آپ مورخہ ۲۴ مئی ۱۸۹۵ء کو پیدا ہوئے۔آپ کی پیدائش سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس بابت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی تھی اور آپ کے متعلق یہ الہامات ہوئے تھے۔