جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 33
33 یعنی نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہو جائے گا۔خدا تیرے منہ کو بشاش کرے گا۔اور تیرے برھان کو روشن کر دے گا۔اور تجھے ایک بیٹا عطا ہو گا اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا۔اس الہام کی اشاعت کے چند ماہ کے بعد ۲۰ / اپریل ۱۸۹۳ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ولادت ہوئی۔وہ اس نشان کے پورا ہونے پر اسی روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار تحریر فرمایا جو پنجاب پریس سیالکوٹ سے شائع ہوا۔اس میں آپ نے مذکورہ بالا پیشگوئی کا ذکر کر کے تحریر فرمایا۔سو آج ۲۰ اپریل ۱۸۹۳ءکو وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسن کو خود اپنی زندگی کا اعتبار نہیں۔چہ جائیکہ یقینی اور قطعی طور پر یہ اشتہار دیوے کہ ضرور عنقریب اس کے گھر میں بیٹا پیدا ہوگا۔خاص کر ایسا خص جو اس پیشگوئی کو اپنے صدق کی علامت ٹھہراتا ہے۔اور تحدی کے طور پر پیش کرتا ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۳۲۳) اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بشا رات کے مطابق آپ کی شاندار صلاحیتیں شروع ہی سے نمایاں ہو کر سامنے آ رہی تھیں۔ابھی آپ کی عمر اٹھارا برس کی بھی نہیں تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے آپ کو صدر انجمن کا ممبر نامز دفرمایا۔اور اس کے ساتھ باقاعدہ طور پر آپ نے خدمت دین کا آغاز فرمایا اور وفات تک کامل وفا کے ساتھ خدمت اسلام پر کمر بستہ رہے۔شروع ہی سے آپ کی طبیعت خدمت دین اور دینی علوم کے حصول کی طرف اتنی مائل تھی کہ جب آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تو جلد ہی آپ کی قابلیت کی وجہ سے سب آپ کا احترام کرنے لگ گئے۔مگر آپ نے کالج کو اس لئے الوداع کہہ دیا کہ قادیان میں حضرت خلیفۃ اسح الاول کی خدمت میں حاضر ہو کر قرآن کریم کے درس میں شامل ہو سکیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول پہلے دن میں دو مرتبہ قرآن کریم کا درس دیتے تھے لیکن اب آپ نے دن میں تین مرتبہ درس دینا شروع فرما دیا۔خلافت ثانیہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب روز و شب خدمت دین پر کمر بستہ ہو گئے۔صدرانجمن احمدیہ کی مختلف نظارتوں کے فرائض ہوں، یا صدر انجمن احمدیہ کے قوانین کی تدوین ہو، ہجرت کا پُر آشوب دور ہو یا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی علالت کے نازک دور میں نگران بورڈ کی صدارت، آپ ہر موقع پر اپنے عظیم بھائی کے دست و بازو بن کر خدمت دین پر کمر بستہ نظر آتے تھے۔آپ کی خدمات صرف انتظامی میدان تک محدود نہیں تھیں۔آپ ایک بلند پایہ محقق اور مصنف بھی تھے۔آپ کی تحریر میں ہر بات دلیل اور حوالہ کے ساتھ لکھی ہوتی تھی۔مخالفین کے اعتراضات کا جواب اس جامع اور مدلل طریق پر دیتے کہ کوئی بھی پہلو اس گرفت سے باہر نہ رہتا۔آپ نے ۳۲ تصانیف تحریر فرما ئیں۔جس وقت آپ نے سیرت خاتم النبین یہ تحریر فرمائی ، اس دور میں مستشرقین کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی مبارک زندگی پر بہت سی کتب شائع کی جارہی تھیں۔ان