جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 35 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 35

35 ا۔عَمَّرَهُ اللهُ عَلَى خِلَافِ التَّوَقُع ( تذکر ص ۷۰۹ ایڈیشن چهارم ۲۰۰۴ء) اللہ تعالیٰ اس کو خلاف توقع عمر دے گا۔۲ - أَمَّرَهُ اللهُ عَلَى خِلَافِ التَّوقع ( ( تذکر ص ۷۰۹ ایڈیشن چہارم ۲۰۰۴ء) اللہ تعالیٰ اس کو خلاف توقع صاحب امر کرے گا -٣- مُرَادُكَ حَاصِلٌ ( تذکرہ ص ۷۰۹ ایڈیشن چهارم ۲۰۰۴ء) تیری مراد حاصل ہو جائے گی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا شریف احمد کو خواب میں دیکھا کہ اس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دو آدمی پاس کھڑے ہیں۔ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کر کے کہا وہ بادشاہ آیا۔دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے۔ایک مرتبہ آپ نے عالم کشف میں حضرت مرزا شریف صاحب کے متعلق کہا' اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔( تذکره ص ۵۸۴ - ۴۰۵ ایڈیشن چہارم ۲۰۰۴ء) حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے خدائی الہامات کے مطابق بہت شاہانہ مزاج پایا تھا۔تقسیم ملک کے بعد جب ہجرت کی وجہ سے مالی لحاظ سے تنگی کا زمانہ تھا ، اس وقت بھی آپ بوجھوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر ضرورت مند کی مدد فرماتے۔مردانہ شجاعت آپ کی طبیعت کا ایک نمایاں وصف تھا۔آزادی سے قبل جب احرار نے کچھ انگریز حکام کے تعاون سے جماعت کے خلاف شورش بر پا کی ، اس وقت حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت اور شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے صدر انجمن میں نظارت خاص کے نام سے ایک نظارت قائم فرمائی اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو اس کا ناظر مقررفرمایا۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل آپ کے شامل حال تھا۔آپ کی بیدار مغزی اور حسن تدبیر سے احرار کی چالیں نا کام ہونے لگیں۔دشمن نے آپ کو اپنے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور ایک شخص حنیفا نے آپ پر لاٹھی سے حملہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ محفوظ رہے۔۱۹۵۳ء کے فسادات میں بھی آپ کو گرفتار کیا گیا۔آپ نے ہمیشہ اس قسم کے حالات کا مردانہ شجاعت کے ساتھ سامنا کیا۔آپ کچھ عرصہ فوج میں بھی رہے اور احمد یہ ٹیریٹوریل فورس کا نظم ونسق بھی آپ کے سپر درہا۔آپ کی وفات کے بعد ناظر اعلیٰ حضرت مرزا عزیز احمد صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا کہ صدر انجمن احمدیہ کے اجلاس کے دوران جب کسی معاملہ پر بحث ہوتی تو ہم خیال کرتے کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب اس معاملہ میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔مگر جب ہم اپنی اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہوتے تو آپ سر بلند فرماتے اور ایسی مختصر مگر مدل رائے کا اظہار فرماتے کہ ہم سب حیران رہ جاتے اور ان کی رائے قبول کی