جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 599 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 599

599 ڈائریکٹر بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعات (اٹلی) ڈاکٹر عبدالسلام کامیابیوں کے زینے متواتر طے کرتے چلے گئے یہاں تک کہ ۱۹۶۴ء میں جب کہ وہ سائنس کی دنیا میں ایک عبقری کی حیثیت سے مشہور ہو گئے تھے انہیں ٹریسٹ (اٹلی) میں انٹر نیشنل سنٹر فارتھیوریٹیکل فزکس ، کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔اس سلسلہ میں ڈاکٹر عبدالسلام کی انتظامی صلاحیتوں اور کوششوں کو ڈاکٹر عبدالغنی یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔سلام نے بے حد محنت۔جذبۂ صادق اور بچی لگن کے ساتھ اس مرکز کو چلایا ہے۔انہوں نے اپنی منفرد شخصیت وسیع اور گہری سائنسی دلچسپی تبحر علمی، ہر موضوع کو گرفت میں لینے کی بے پناہ صلاحیتوں ،علمی، اقتصادی، سیاسی اور مذہبی امور پر گرفت ( جن پر انہوں نے بڑی آسانی اور اتھارٹی سے لکھا ہے ) اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں دنیاؤں کے لوگوں کے بارے میں گہری اور صحیح واقفیت کی بدولت اپنے آپ کو اس ذمہ داری کا ہر طرح سے اہل ثابت کر دیا ہے اور وہ آج دنیا ئے سائنس کے متفقہ لیڈر ہیں۔“ (ص ۸۵) یادر ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے اس عظیم الشان کارنامے کی وجہ سے آپ کو ۱۹۶۸ء میں ایٹم برائے امن انعام دیا گیا اور اس موقع پر پڑھے جانے والے مضمون میں اعتراف کیا گیا کہ ”آپ نے ایک بڑی انتظامی ذمہ داری سنبھال کر اقوام عالم کی کوششوں اور خیالات کی راہنمائی کرنے اور انہیں ایک خاص نصب العین پر مرتکز کرنے میں مدد دی ہے۔“ (ص ۸۵) ( بحوالہ تعمیر و ترقی پاکستان اور جماعت احمدیہ ص ۶۱ تا ۶۹ از پروفیسر راجا نصر اللہ خان صاحب) اسلامی دنیا کا پہلا نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ڈاکٹر عبدالسلام کی لیاقت، عظمت اور سائنس کے میدان میں عزت وشہرت کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوگا کہ ۱۹۷۹ء میں انہوں نے دنیا کے سب سے بڑا انعام نوبیل پرائز حاصل کیا۔اس سے نہ صرف پاکستان کی عظمت و شہرت کو چار چاند لگے بلکہ پوری اسلامی دنیا کا سرفخر وانبساط سے اونچا ہو گیا۔اس سلسلہ میں مختلف خبریں اور نوٹ ملاحظہ فرمائیں:۔ا۔انگریزی روزنامہ ڈان (کراچی) مورخہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۷۹ء کے صفحہ اول کی ایک نمایاں خبر کی سرخی پروفیسر سلام اور دو امریکنوں نے نوبیل پرائز حاصل کیا الف۔سٹاک ہوم - ۱۵ / اکتوبر پاکستان کے پروفیسر عبدالسلام اور دو امریکنوں نے آج ۱۹۷۹ء کا