جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 600
600 طبیعات کا نوبیل پرائز اپنے اس کارنامے کے نتیجہ میں جیت لیا جس کا تعلق ایسے میدان سے تھا جو آئن سٹائن کے لئے پریشان کن بنارہا۔یعنی ایک مشترکہ قوت کی تلاش جس کے متعلق اسے گمان تھا کہ وہ ساری کائنات کو یکجا باندھے ہوئے ہے۔ب۔ڈان کی متذکرہ اشاعت کے ص ۱۲ پر بیان ہے۔پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف فزکس کے ڈائریکٹر سلیم الزمان صدیقی نے ڈاکٹر عبد السلام کے اس سال طبیعات میں نوبیل پرائز جیتنے کو پوری قوم کا اعزاز قرار دیا۔اے پی پی سے کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیقی نے کہا ڈاکٹر سلام کا یہ عظیم الشان اعزاز بڑی دیر سے متوقع تھا۔“ ج۔ڈان ( کراچی ) ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۹ء کا اداریہ بعنوان ”پاکستان کے لئے ایک اعزاز“ لکھا ہے۔یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں کہ ”ابرٹ آئن سٹائن کی سوویں سالگرہ کے برس طبیعات کے تین سائنسدانوں کو تمام عالمی انعامات میں سے سب سے زیادہ قابل رشک ” نوبیل پرائز دیا گیا ہے جو ان کی ایسے میدان میں تحقیق کا نتیجہ ہے جس نے ان کے شہرہ آفاق پیشرو (آئن سٹائن۔ناقل ) کو پریشان کئے رکھا۔اور یہ بات کہ انعام جیتنے والوں میں سے ایک پروفیسر عبد السلام ہیں۔اس ملک پاکستان کے لئے زبردست افتخار اور عزت کا باعث ہے۔آپ کی ڈگریوں ، اعزازی ڈگریوں اور انعامات کی فہرست بہت طویل ہے جو دنیا کے کئی ممالک نے آپ کو پیش کئے۔ٹریسٹ اٹلی میں فزکس کی تعلیم سے مخصوص ایک ادارہ قائم کیا درجن بھر کتب کے علاوہ ۲۵۰ سے زائد سائنسی مقالے تحریر کئے۔انتہائی سادہ اور مخلص تھے۔مالی قربانی کے عادی تھے۔آکسفورڈ انگلینڈ میں ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ء کو وفات پائی۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ پاکستان میں تدفین ہوئی۔تعمیر وترقی پاکستان اور جماعت احمدیہ ص ۵۵ - ۵۶ از پروفیسر راجا نصر اللہ خان صاحب) ۱۰ مکرم میجر جنرل افتخار حسین جنجوعہ ہلال جرأت جنرل افتخار جنجوعہ پاکستانی افواج کے ان افسروں اور جانبازوں میں سے تھے جن کا نام امر ہو چکا ہے۔آپ نے ۱۹۶۵ء کی جنگ میں رن کچھ محاذ پر وطن کا بے جگری کے ساتھ دفاع کرتے ہوئے جارح دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔پورے محاذ کی کمان میجر جنرل ٹکا خان کر رہے تھے لیکن فی الحقیقت جس بریگیڈ نے اس محاذ پر سب سے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس کی کمان بر یگیڈ ئیر افتخار جنجوعہ کے ہاتھ میں تھی۔بر یگیڈ ئیر افتخار جنجوعہ نے اس بے جگری اور جرأت کا مظاہرہ کیا کہ اپنی طاقت پر نازاں دشمن کو پیچھے