جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 543 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 543

543 دس عظیم علما ء سلسلہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔”خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔“ تجلیات الہید روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰ ص ۴۰۹) ذیل میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرقہ کے سینکڑوں علماء میں سے صرف دس علماء کرام کا مختصر تعارف کروایا جارہا ہے۔جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کے مذکورہ بالا وعدہ کے مصداق بنے۔اور جنہوں نے واقعی علم ومعرفت کے میدان میں اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے تمام مخالفین کا منہ بند کر دیا۔ا۔حضرت حافظ مولا نا روشن علی صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب تقریباً ۱۸۸۱ء میں رنمل ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔آپ رنمل ضلع گجرات کے مشہور پیروں کے خاندان میں سے تھے۔آپ کے بھائی ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم اپنے خاندان میں سے پہلے احمدی ہوئے۔ان کی تحریک و تبلیغ سے باقی تینوں بھائی بھی حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے۔حافظ صاحب قرآن حفظ کر کے غالبا ۱۹۰۰ ء میں قادیان آئے۔اور حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ سے تمام دینی اور عربی علوم کی تحصیل کی۔آپ کا حافظہ بے نظیر تھا۔صفحوں کے صفحے صرف ایک دفعہ سن کر قریباً دوبارہ سنا سکتے تھے۔آپ کو بلا مبالغہ ہزاروں شعر عربی کے حفظ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قصائد کے قصائد زبانی سنادیتے تھے۔آپ کی صرف ایک آنکھ میں بینائی تھی۔مگر کتاب نہ پڑھ سکتے تھے۔اس لئے تمام علوم سن سن کر تحصیل کئے۔آپ نہایت خوش آواز قاری تھے کیونکہ غیر احمدی بھی ہمارے تبلیغی جلسوں میں آپ کی آواز سے مسحور ہو جاتے تھے۔آپ کا ذہن نہایت صافی تھا۔عربی کے تمام مروجہ علوم میں آپ کامل تھے۔اور بلاشبہ نورالدین اعظم کے شاگرد اعظم تھے۔آپ نہایت زندہ دل واقعہ ہوئے تھے۔جس مجلس میں آپ ہوتے۔ہر مذاق کے لوگ آپ کی باتوں سے محظوظ ہوتے۔کسی مذہب وملت کا آدمی ہو۔اس سے