جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 523
523 جنس نیگواں ایس چرخ بسیار آورد کم بزاید مادرے باس صفاء در در یتیم اے خدا بر تربت أو بارش رحمت بیار داخلش کن از کمال فضل در بیعت النعيم ( نقل از کتبه حضرت مولوی عبدالکریم) ترجمہ: عبدالکریم کی خوبیاں کیونکر گنی جا سکتی ہیں جس نے شجاعت کے ساتھ صراط مستقیم پر جان دی وہ جو دین اسلام کا حامی تھا اور جس کا خدا نے لیڈر نام رکھا تھا وہ خدائی اسرار کا عارف تھا اور دین متین کا خزانہ۔اس نے صدق اختیار کر لیا تھا اور اپنے اخلاص اور صدق کامل کی وجہ سے رب علیم کی درگاہ میں رحمت کا مورد بن گیا تھا۔اگر چہ آسمان نیکیوں کی جماعت بکثرت لاتا رہتا ہے مگر ایسا شفاف اور قیمتی موتی ماں بہت کم جنا کرتی ہے۔اے خدا اس کی قبر پر رحمت کی بارش نازل فرما اور نہایت درجہ فضل کے ساتھ اسے جنت میں داخل کر دے۔(نوٹ) تفصیلی حالات سیرت حضرت مولا نا عبد الکریم میں ملاحظہ فرمائیں۔( بحواله ۳۱۳ اصحاب صدق وصفا ص ۴۰ تا ۴۳) ۲۔حضرت سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹ ولادت ۱۸۵۹ء۔بیعت ۲۹ سمبر ۱۸۹۰ء۔وفات ۱۵نومبر ۱۹۱۸ء تعارف: حضرت سید میر حامد شاہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت حکیم میر حسام الدین رضی اللہ عنہ تھے۔شمس العلماء سید میر مہدی حسن انہی کے بھائی تھے جو شاعر مشرق علامہ سر محمد اقبال کے استاد تھے۔آپ کے دادا کا نام میر فیض (۱۷۹۵ء۔۱۸۵۷ء) اور پردادا امیر ظہور اللہ تھے۔جب حضرت اقدس ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لائے تو انہی کے مکان پر فروکش ہوئے۔۱۹۷۷ ء میں آپ نے سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور ڈی سی آفس میں ملازم ہو گئے۔جموں کی کچہری میں بھی ملازمت کی۔بیعت: آپ نے ابتدا ہی میں حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت کی تھی۔رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کی بیعت کا نمبر ۲۱۳ ہے۔آپ کی اہلیہ حضرت فیروز بیگم صاحبہ کی بیعت سے فروری ۱۸۹۲ء کی ہے۔بیعت کا نمبر ۲۴۶ ہے۔دینی خدمات : آپ نظم و نثر اور تقریر میں کمال رکھتے تھے۔آپ نے ہی علامہ سرمحمد اقبال مرحوم کو طالب علمی کے دوران احمدیت کا پیغام پہنچایا اور اس کا اظہار ایک منظوم کلام میں فرمایا۔سیالکوٹ کے مشاعروں میں اپنے حسن کلام کی بدولت معروف تھے۔