جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 323
323 موجود ہیں جن کی آنکھ کا تمام اندرونی نظام تو درست ہے لیکن کسی بیماری یا چوٹ کی وجہ سے ان کی آنکھ کا بیرونی پر دہ یعنی کا رنیا متاثر ہو جاتا ہے۔ایسے افراد کو اگر صحت مند کار نیا مل جائے تو ان کی آنکھیں دوبارہ روشن ہو سکتی ہیں۔دنیا کے بعض ممالک مثلاً سری لنکا میں وفات کے بعد کا رنیا عطیہ (Donate) کرنے کا تصور موجود ہے جبکہ پاکستان میں کارنیا عطیہ (Donate) کرنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو یہ توفیق مل رہی ہے کہ نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن و آئی بنگ کے تحت احباب جماعت کو عطیہ چشم کی وصیت کے ذریعے آئی ڈونر بنایا جاتا ہے اور وفات کے بعد حاصل شده صحت مند کار نیا مستحق نابینا افراد کو پیوند کر دئے جاتے ہیں۔نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن کے تحت اب تک ۱۵۰۰۰ سے زائد احباب جماعت عطیہ چشم کی وصیت کر کے با قاعدہ آئی ڈونرز بن چکے ہیں۔گزشتہ چار سالوں میں کارنیا کی پیوند کاری کے۱۰۰ سے زائد آپریشنز ہو چکے ہیں جن کے مجموعی نتائج تسلی بخش ہیں۔ربوہ برانچ کے علاوہ نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن کی پاکستان بھر میں کل ۲۶ برانچز ہیں جو مرکز کی زیر نگرانی کام کر رہی ہیں۔اب تک ۵ برانچز لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی ، سرگودھا اور جھنگ سے بھی کا دنیا حاصل کئے جاچکے ہیں۔نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن کا ابتدائی دفتر ایوان محمود میں مرکز عطیہ خون کی پرانی عمارت کی بیسمنٹ میں قائم کیا گیا تھا جواب الحمد للہ اس کی عمارت میں منتقل ہو گیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس نئی عمات کا نام از راہ شفقت ” نورالعین دائرۃ الخدمة الانسانیة عطافرمایا ہے۔موجودہ عمارت فضل عمر ہسپتال کے سامنے واقع ہے۔اس کی عمارت میں ایک گراؤنڈ فلور ہے۔جس میں درج ذیل دفاتر ہیں۔مرکز عطیہ خون تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا سنٹر ۲ عدد لیبارٹریز ڈاکٹر انچارج آفس ) ایڈمن آفس جنریٹر روم (KV۔50) بلڈ بینک ربوہ انتظارگاه حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی اجازت سے خدام الاحمدیہ پاکستان نے پہلے ۲ جولائی ۱۹۴ء کو حاطہ بیت المہدی گولبازارر بوہ میں مرکز عطیہ خون قائم کیا۔بعد ازاں احاطہ ایوان محمود میں اس کار خیر کے لئے ایک مستقل عمارت تعمیر کرنے کی توفیق پائی۔پھر کام میں مزید وسعت پیدا ہوگئی۔