جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 210
210۔ہر قسم کے مخالفانہ لٹریچر سے اطلاع رکھنا اور اس کا جواب دینا یاد دلانا بھی اس نظارت کے فرائض میں داخل ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۱۸) ے۔جلسہ سالانہ ربوہ کے پروگرام کا تیار کرنا اور اپنی نگرانی میں اس پر عمل کرانا اور جلسہ کے وقت میں جلسہ گاہ و اسٹیج کا انتظام بھی اسی نظارت کے سپر د ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۱۹)۔اگر احمدیوں میں کوئی باہمی تنازعہ پیدا ہو یا تنازعہ کا اندیشہ ہو تو اصلاحی رنگ میں اس کے سدباب کی تدابیر اختیار کرنا اس نظارت کے ذمہ ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۰) ۹۔احمدیوں کو نماز۔روزہ زکوۃ۔حج وغیرہ کی طرف متوجہ رکھنا اور ان کی طرف رغبت پیدا کرانا اور ان کی سستی کو دور کرنے کی کوشش کرنا۔اسی طرح جماعت میں بد معاملگی اور بد عادات اور بدرسوم اور خلاف شریعت امور کے مٹانے کی کوشش کرنا اس نظارت کے سپر دہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۱) ۱۰۔جماعت کو اعمال صالحہ بجالانے اور تقویٰ و طہارت میں ترقی کرنے کی طرف متوجہ کرتے رہنا بھی اس نظارت کے ذمہ ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۲)۔آئندہ نسل کی دینی اور اخلاقی حفاظت کی تدابیر اختیار کرنا بھی اس نظارت کے ذمہ ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۳) ۱۲ اختلافی اور عملی مسائل سے جماعت کو واقف کرانا اور صحیح عقائد کی تعلیم دینا اور اس سلسلہ میں جماعت کی نگرانی رکھنا بھی اس نظارت کے سپر د ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۴) ۱۳۔مساجد کا انتظام بھی اس نظارت سے متعلق ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۵) ۱۴۔احمدیوں کی دینی اور اخلاقی حالت کا علم رکھنا اور انہیں دینی اور اخلاقی تعلیم سے واقف رکھنے کے لئے ذرائع اختیار کرنا بھی اس نظارت کے سپر د ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۶) ۱۵۔مقامی جماعتوں میں درس قرآن کریم و حدیث و کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا انتظام کرنا اور ان میں افراد جماعت کا مناسب طریق پر امتحان لینے کا انتظام کرنا اس نظارت کے سپرد ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۲۷) ۱۶ - مربی اور امیر رصدر جماعت باہمی تعاون سے کام کرتے ہیں۔مربی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ ماہانہ کارگزاری کی ایک نقل امیر ضلع کو دے۔انتظامی معاملات میں مربی دخل نہیں دے سکتے۔مربی کے کاموں میں امیر اصدر جماعت دخل نہیں دے سکتے۔صرف مشورہ دے سکتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۱۲۹) ۱۷۔جماعتوں میں ڈش لگوانا اور احباب اور مہمانوں کو وہاں لانا اور اس امر کی نگرانی جماعتوں میں