جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 209
209 ے۔ناظر دیوان کا فرض ہوتا ہے کہ حسب قاعدہ اس بات کا انتظام کرے کہ صیغہ جات کی باہمی رضا مندی سے محررین کا تبادلہ اس طرح ہوتا رہے کہ کوئی محرر عام حالات میں تین سال سے زائد عرصہ کے لئے ایک دفتر میں نہ رہے اور اگر باہمی رضا مندی سے ایسا نہ ہو سکے تو اپنی تجاویز صدر انجمن احمد یہ میں پیش کر کے فیصلہ حاصل کرے۔( قاعدہ نمبر ۱۱۰)۔ناظر دیوان کا فرض ہوتا ہے کہ کارکنان کی تقرری، تبادلہ اور سزا کے متعلق صدر انجمن احمدیہ کے فیصلہ جات کی تعمیل کروائے۔( قاعدہ نمبر ۱۱) ۹- نظارت دیوان کے ذمدان دیگر فرائض کی بجا آوری بھی ہوتی ہے جو خلیفة المسیح کی طرف سے اس کے سپر د کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۱۱۲) نظارت اصلاح وارشاد ا۔سلسلہ کے فرائض متعلق اصلاح و ارشاد ادا کرنے کیلئے ایک نظارت اصلاح وارشاد قائم ہے۔جسے عرف عام میں اصلاح وارشاد مرکز یہ کہتے ہیں اور اس کا انچارج ناظر اصلاح وارشاد کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۱۳) ۲۔نظارت اصلاح وارشاد کا یہ کام ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو یعنی اپنی انتہائی طاقت کے ساتھ تمام اکناف عالم میں بصورت احسن اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کے پہنچانے کا انتظام کرے۔اس کا فرض ہوتا ہے کہ تبلیغ کے بہترین ذرائع دریافت کرے اور ان سے کام لے کر دنیا کے ہر حصہ میں اسلام واحمدیت کی اشاعت کی تدابیر اختیار کرے حتی کہ دنیا کا کوئی انسان اسلام اور احمدیت کی تبلیغ سے باہر نہ رہ جاوے اور حتی الوسع ہر جماعت اور ہر گروہ اور ہر فرد کے اعتراضات اور شکوک کے ازالہ کا انتظام کیا جائے۔اسی طرح جماعت کی دینی اور اخلاقی تربیت کا کام بھی اس نظارت سے متعلق ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۱۴) ۳۔نظارت اصلاح وارشاد کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے کل وقتی ورضا کار مربیان اور معلمین کے ذریعہ قاعدہ نمبر ۱۴۴ میں مذکور فرائض سرانجام دے اور احباب جماعت میں اصلاح و ارشاد کا شوق اور ولولہ قائم رکھے۔( قاعدہ نمبر ۱۱۵) ۴۔مربی سلسلہ کے اپنے حلقہ کارکردگی میں وہی فرائض ہوں گے جو کہ نظارت کے قاعدہ نمبر ۱۱۴ ۱۱۸ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ - ۱۲۶ میں درج ہیں۔( قاعدہ نمبر ۱۱۶) ۵۔بوقت ضرورت تربیتی اور تبلیغی جلسے و مذاکرے وغیرہ منعقد کروانا اور ان کا انتظام کرنا بھی اس نظارت کے سپرد ہوتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۱۱۷)